زندگی ہمیشہ رہنے کی جگہ نہیں اور ضرور ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے لئے اور اپنی ذریّت کےؔ لئے وہ آرام کی جگہ بناویں جو مرنے کے بعد ہمیشہ کی آرام گاہ ہوگی۔ اے بزرگو! یقیناً سمجھو کہ خدا ہے اور اس کا ایک قانون ہے جس کو دوسرے الفاظ میں مذہب کہتے ہیں۔ اور یہ مذہب ہمیشہ خداتعالیٰ کی طرف سے پیدا ہوتا رہا اور پھر ناپدید ہوتا رہا اور پھر پیدا ہوتا رہا مثلاً جیسا کہ تم گیہوں وغیرہ اناج کی قسموں کو دیکھتے ہو کہ وہ کیسے معدوم کے قریب ہو کر پھر ہمیشہ ازسرنو پیدا ہوتے ہیں اور باایں ہمہ وہ قدیم بھی ہیں ان کو نو پیدا نہیں کہہ سکتے۔ یہی حال سچے مذہب کا ہے کہ وہ قدیم بھی ہوتا ہے اور اس کے اصولوں میں کوئی بناوٹ اور حدوث کی بات نہیں ہوتی اور پھر ہمیشہ نیا بھی کیا جاتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جو بنی اسرائیل میں ایک بزرگ نبی گذرے ہیں وہ کوئی نیا مذہب نہیں لائے تھے بلکہ وہی لائے تھے جو ابراہیم علیہ السلام کو دیا گیا تھا اور حضرت ابراہیم بھی کوئی نیا مذہب نہیں لائے تھے بلکہ وہی لائے تھے جو نوح علیہ السلام کو ملا تھا۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی کوئی نیا مذہب نہیں لائے تھے اور کوئی نیا نجات کا طریق نہیں گھڑا تھا بلکہ وہی تھا جو حضرت موسیٰ کو ملا تھا اور وہی پرانا طریق نجات کا تھا جو ہمیشہ خدائے رحیم نبیوں کے ذریعہ سے انسانوں کو سکھلاتا رہا۔ لیکن جب طریق نجات جو قدیم سے چلا آتا تھا اور دوسرے اصول توحید میں عیسائیوں نے دھوکے کھائے اور یہودیوں کی عملی حالت بھی بگڑ گئی اور تمام زمین پر شرک پھیل گیا۔ تب خدا نے عرب میں ایک رسول پیدا کیا تا نئے سرے زمین کو توحید اور نیک عملوں سے منور کرے۔ اُسی خدا نے ہمیں خبر دی تھی کہ آخری زمانہ میں پھر مخلوق پرستی کے عقائد دنیا میں پھیل جائیں گے اور لوگوں کی عملی حالت میں بھی بہت فرق ہو جائے گا اور اکثر دلوں پر دنیا کی محبت غالب اور خدا کی محبت ٹھنڈی ہو جائے گی۔ تب خدا پھر اس طرف توجہ کرے گا کہ اس راستی کے تخم کو جو ہمیشہ اناج کی طرح پیدا ہوتا رہا ہے نشوونما دے۔ سو خدا اب اپنے دین کو ایسے لوگوں کے وسیلہ سے نشوونما دے گا جو اس کی نظر میں بہت ہی مقبول ہوں گے۔ مگر یہ خداتعالیٰ کو معلوم ہے کہ