نبی صلیؔ اللہ علیہ وسلم کو خبر دی گئی تھی اور خداتعالیٰ سے وعدہ مقرر ہو چکا تھا کہ تثلیث کے غلبہ کے زمانہ میں اس نام پر ایک مجدّد آئے گا جس کے ہاتھ پر کسر صلیب مقدر ہے۔ اس لئے صحیح بخاری میں اس مجدّد کی یہی تعریف لکھی ہے کہ وہ امت محمدیہ میں سے ان کا ایک امام ہوگا اور صلیب کو توڑے گا۔ یہ اسی بات کی طرف اشارہ تھا کہ وہ صلیبی مذہب کے غلبہ کے وقت آئے گا۔ چنانچہ خداتعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق ایسا ہی کیا اور اس عاجز کو چودھویں صدی کے سر پر بھیجا اور وہ آسمانی حربہ مجھے عطا کیا جس سے میں صلیبی مذہب کو توڑ سکوں۔ مگر افسوس کہ اس ملک کے کوتہ اندیش علماء نے مجھے قبول نہیں کیا۔ اور نہایت بیہودہ عذرات پیش کئے جن کو ہر ایک پہلو سے توڑا گیا۔ انہوں نے یہ ایک لغو خیال پیش کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ مع جسم عنصری آسمان پر چلے گئے تھے اور پھر منارہ دمشق کے پاس آخری زمانہ میں اتریں گے۔ اور وہی مسیح موعود ہوں گے۔ پس ان کو جواب دیا گیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جسم عنصری کے ساتھ زندہ آسمان پر چلے جانا ہرگز صحیح نہیں ہے۔ ایک حدیث بھی جو صحیح مرفوع متّصل ہو ایسی نہیں ملے گی جس سے ان کا زندہ آسمان پر چلے جانا ثابت ہوتا ہو۔ بلکہ قرآن شریف صریح ان کی وفات کا بیان فرماتا ہے۔ اور بڑے بڑے اکابر علماء جیسے ابن حزم اور امام مالک رضی ا للہ عنہما ان کی وفات کے قائل ہیں۔ پھر جبکہ نصوص قطعیہ سے ان کا وفات پانا ثابت ہوتا ہے۔ تو پھر یہ امید رکھنا کہ وہ کسی وقت دمشق کے شرقی منارہ کے پاس نازل ہوں گے۔ کس قدر غلط خیال ہے۔ بلکہ اس صورت میں دمشقی حدیث کے وہ معنی کرنے چاہئیں جو قرآن اور دوسری حدیثوں سے مخالفت نہ رکھتے ہوں اور وہ یہ ہے کہ مسیح موعود کا نزول اجلال و اکرام جو ایک روحانی نزول ہے دمشق کے مشرقی منار تک اپنے انوار دکھلائے گا۔ چونکہ دمشق تثلیث کے خبیث درخت کا اصل منبت ہے اور اسی جگہ سے اس خراب عقیدہ کی پیدائش ہوئی ہے اس لئے اشارہ