بِسْمِؔ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ پنجاب اور ہندوستان کے مشائخ اور صلحاء اور اہل اللہ باصفا سے حضرت عزت اللہ جلّ شانہٗ کی قسم دے کر ایک درخواست اے بزرگان دین و عباد اللہ الصالحین میں اس وقت اللہ جلّ شانہٗ کی قسم دے کر ایک ایسی درخواست آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں جس پر توجہ کرنا آپ صاحبوں پر رفع فتنہ و فساد کے لئے فرض ہے۔ کیونکہ آپ لوگ فراست اور بصیرت رکھتے ہیں۔ اور نہ صرف اٹکل سے بلکہ نوراللہ سے دیکھتے ہیں اور اگرچہ ایسے ضروری امر میں جس میں تمام مسلمانوں کی ہمدردی ہے اور اسلام کے ایک بڑے بھاری تفرقہ کو مٹانا ہے قسم کی کچھ بھی ضرورت نہیں تھی مگر چونکہ بعض صاحب ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اپنے بعض مصالح کی وجہ سے خاموش رہنا پسند کرتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ سچی شہادت میں عام لوگوں کی ناراضگی مقصود ہے اور جھوٹ بولنے میں معصیت ہے اور نہیں سمجھتے کہ اخفاء شہادت بھی ایک معصیت ہے ان لوگوں کو توجہ دلانے کے لئے قسم دینے کی ضرورت پڑی۔ اے بزرگان دین وہ امر جس کے لئے آپ صاحبوں کو اللہ جلّ شانہٗ کی قسم دے کر اس کے کرنے کے لئے آپ کو مجبور کرتا ہوں یہ ہے کہ خداتعالیٰ نے عین ضلالت اور فتنہ کے وقت میں اس عاجز کو چودھویں صدی کے سر پر اصلاح خلق اللہ کے لئے مجدّد کر کے بھیجا۔ اور چونکہ اس صدی کا بھارا فتنہ جس نے اسلام کو نقصان پہنچایا تھا، عیسائی پادریوں کا فتنہ تھا اس لئے خداتعالیٰ نے اس عاجز کا نام مسیح موعود رکھا۔ اور یہ نام یعنی مسیح موعود وہی نام ہے جس کی ہمارے