اوّل یہ کہ خداتعالیٰ کو واحد لاشریک اور ہر ایک مَنقصت موت اور بیماری اور لاچاری اور درد اور دکھ اور دوسری نالائق صفات سے پاک سمجھنا۔ دوسرے یہ کہ خداتعالیٰ کے سلسلہ نبوت کا خاتم اور آخری شریعت لانے والا اور نجات کی حقیقی راہ بتلانے والا حضرت سیّدنا و مولانا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین رکھنا۔ تیسرے یہ کہ دین اسلام کی دعوت محض دلائل عقلیہ اور آسمانی نشانوں سے کرنا۔ اور خیالات غازیانہ* اور جہاد اور جنگجوئی کو اس زمانہ کے لئے قطعی طور پر حرام اور ممتنع سمجھنا۔ اور ایسے خیالات کے پابند کو صریح غلطی پر قرار دینا۔ چوتھے یہ کہ اس گورنمنٹ مُحسِنہ کی نسبت جس کے ہم زیر سایہ ہیں یعنی گورنمنٹ انگلشیہ کوئی مفسدانہ خیالات دل میں نہ لانا۔ اور خلوص دل سے اس کی اطاعت میں مشغول رہنا۔ پانچویں یہ کہ بنی نوع سے ہمدردی کرنا اور حتّی الوسع ہر ایک شخص کی دنیا اور آخرت کی بہبودی کے لئے کوششؔ کرتے رہنا۔ اور امن اور صلح کاری کا مؤید ہونا اور نیک اخلاق کو دنیا میں پھیلانا۔ یہ پانچ اصول ہیں جن کی اس جماعت کو تعلیم دی جاتی ہے۔ اور میری جماعت جیسا کہ میں آگے بیان کروں گا جاہلوں اور وحشیوں کی جماعت نہیں ہے بلکہ اکثر ان میں سے اعلیٰ درجہ کے تعلیم یافتہ اور علوم مروّجہ کے حاصل کرنے والے اور سرکاری معزز عہدوں پرافراز ہیں۔ اور میں دیکھتا ہوں کہ انہوں نے چال چلن اور اخلاق فاضلہ میں بڑی ترقی کی ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ تجربہ کے وقت سرکار انگریزی ان کو اول درجہ کے خیرخواہ پائے گی۔ (۴) چوتھی گذارش یہ ہے کہ جس قدر لوگ میری جماعت میں داخل ہیں اکثر ان میں سے سرکار انگریزی کے معزز عہدوں پر ممتاز اور یا اس ملک کے نیک نام رئیس اور ان کے اِس جہاد کے برخلاف نہایت سرگرمی سے میرے پیرو فاضل مولویوں نے ہزاروں آدمیوں میں تعلیم کی ہے اور کر رہے ہیں جس کا بہت بڑا اثر ہوا ہے۔ منہ