اُن کو اپنا دستورالعمل رکھے وہ ہدایتیں میرے اس رسالہ میں مندرج ہیں جو ۱۲؍ جنوری ۱۸۸۹ ؁ء میں چھپ کر عام مریدوں میں شائع ہوا ہے جس کا نام تکمیل تبلیغ مع شرائط بیعت*ہے جس کی ایک کاپی اسیؔ زمانہ میں گورنمنٹ میں بھی بھیجی گئی تھی۔ ان ہدایتوں کو پڑھ کر اور ایسا ہی دوسری ہدایتوں کو دیکھ کر جو وقتاً فوقتاً چھپ کر مریدوں میں شائع ہوتی ہیں۔ گورنمنٹ کو معلوم ہوگا کہ کیسے امن بخش اصولوں کی اس جماعت کوتعلیم دی جاتی ہے اور کس طرح ان کو بار بار تاکیدیں کی گئی ہیں کہ وہ گورنمنٹ برطانیہ کے سچے خیرخواہ اور مطیع رہیں اور تمام بنی نوع کے ساتھ بلاامتیاز مذہب و ملّت کے انصاف اور رحم اور ہمدردی سے پیش آویں۔ یہ سچ ہے کہ میں کسی ایسے مہدی ہاشمی قرشی خونی کا قائل نہیں ہوں جو دوسرے مسلمانوں کے اعتقاد میں بنی فاطمہ میں سے ہوگا اور زمین کو کفّار کے خون سے بھر دے گا۔ میں ایسی حدیثوں کو صحیح نہیں سمجھتا اور محض ذخیرہ موضوعات جانتا ہوں۔ ہاں میں اپنے نفس کے لئے اس مسیح موعود کا اِدّعا کرتا ہوں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح غربت کے ساتھ زندگی بسر کرے گا اور لڑائیوں اور جنگوں سے بے زار ہوگا۔ اور نرمی اور صلح کاری اور امن کے ساتھ قوموں کو اُس سچے ذوالجلال خدا کا چہرہ دکھائے گا جو اکثر قوموں سے چھپ گیا ہے۔ میرے اصولوں اور اعتقادوں اور ہدایتوں میں کوئی امر جنگجوئی اور فساد کا نہیں۔ اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔ میں بار بار اعلان دے چکا ہوں کہ میرے بڑے اصول پانچ ہیں۔ ان شرائط میں سے چند شرطوں کی یہاں نقل کی جاتی ہے۔ شرط دوم یہ کہ جھوٹ اور زنا او ربدنظری اور ہر ایک فسق و فجور اور ظلم اور خیانت اور فساد اور بغاوت کے طریقوں سے بچتا رہے گا اور نفسانی جوشوں کے وقت ان کا مغلوب نہیں ہوگا اگرچہ کیسا ہی جذبہ پیش آوے۔ شرط چہارم۔ یہ کہ عام خلق اللہ کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصًا اپنے نفسانی جوشوں سے کسی نوع کی ناجائز تکلیف نہیں دے گا۔ نہ زبان سے نہ ہاتھ سے نہ کسی اور طرح سے۔ شرط نہم یہ کہ عام خلق اللہ کی ہمدردی میں محض لِلّٰہ مشغول رہے گا اور جہاں تک بس چل سکتا ہے اپنی خداداد طاقتوں اور نعمتوں سے بنی نوع کو فائدہ پہنچائے گا۔