نفاقؔ اور بغض بڑھتا جاتا ہے اور اخلاقی حالات پر بھی اس کا بڑا اثر ہوتا ہے۔ مثلاً حال میں جو اسی ۱۸۹۷ ء میں پادری صاحبوں کی طرف سے مشن پریس گوجرانوالہ میں اسلام کے رد میں ایک کتاب شائع ہوئی ہے جس کا نام یہ رکھا ہے ’’اُمّہات المُؤمنین یعنی دربار مصطفائی کے اسرار*‘‘وہ ایک تازہ زخم مسلمانوں کے دلوں کو پہنچانے والی ہے۔ اور یہ نام ہی کافی ثبوت اس تازہ زخم کا ہے۔ اور اس میں اشتعال دہی کے طور پر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی ہیں اور نہایت دل آزار کلمے استعمال کئے ہیں۔ مثلاً اس کے صفحہ ۸۰ سطر ۲۱ میں یہ عبارت ہے۔ ’’ہم تو یہی کہتے ہیں کہ محمد صاحب نے خدا پر بہتان باندھا۔ زنا کیا اور اس کو حکم خدا بتلایا‘‘۔ ایسے کلمات کس قدر مسلمانوں کے دلوں کو دُکھائیں گے کہ ان کے بزرگ اور مقدس نبی کو صاف اور صریح لفظوں میں زانی ٹھہرایا۔ اور پھر دل دکھانے کے لئے ہزار کاپی اس کتاب کی مسلمانوں کی طرف مفت روانہ کی گئی ہے۔ چنانچہ آج ہی کی تاریخ جو ۱۵؍ فروری ۱۸۹۸ ء ہے ایک جلد مجھ کو بھی بھیج دی ہے 228 حالانکہ میں نے طلب نہیں کی اور اس کتاب میں یعنی صفحہ ۵ میں لکھ بھی دیا ہے کہ ’’اس کتاب کی ایک ہزار جلدیں مفت بصیغہ ڈاک ایک ہزار مسلمانوں کی نذر کرتے ہیں‘‘۔ اب ظاہر ہے کہ جب ایک ہزار مسلمان کو خواہ نخواہ یہ کتاب بھیج کر ان کا دل دُکھایا گیا تو کس قدر نقض امن کا اندیشہ ہو سکتا ہے اور یہ پہلی تحریر ہی نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی پادری صاحبوں نے بار بار بہت سی فتنہ انگیز تحریریں شائع کی ہیں اور بے خبر مسلمانوں کو مشتعل کرنے کے لئے وہ کتابیں اکثر مسلمانوں میں تقسیم کی ہیں جن کا ایک ذخیرہ میرے پاس بھی موجود ہے جن میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بدکار۔ زانی۔ شیطان۔ ڈاکو۔ لٹیرا۔ دغاباز۔ دجّال وغیرہ دلآزار ناموں سے یاد کیا ہے۔ اور
* اس کتاب کو پرسوتم داس عیسائی نے گوجرانوالہ شعلہ طُور پریس سے شائع کیا ہے۔
228 ہمارے بہت سے معزز دوستوں کے بھی اس بارے میں خطوط پہنچے ہیں کہ ان کو مفت بلا طلب
یہ کتاب بھیجی گئی ہے۔