مقاؔ بل پر بھی جو گورنمنٹ کی قوم میں داخل ہیں پورے زور سے اپنی حقانیت کے دلائل پیش کر سکتے ہیں۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ایسی کتابوں کی تالیف سے جو پادریوں کے مذہب کے رد میں لکھی جاتی ہیں گورنمنٹ کے عادلانہ اصولوں کا اعلیٰ نمونہ لوگوں کو ملتا ہے۔ اور غیر ملکوں کے لوگ خاص کر اسلامی بلاد کے نیک فطرت جب ایسی کتابوں کو دیکھتے ہیں جو ہمارے ملک سے ان ملکوں میں جاتی ہیں تو ان کو اس گورنمنٹ سے نہایت اُنس پیدا ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ بعض خیال کرتے ہیں کہ شاید یہ گورنمنٹ درپردہ مسلمان ہے۔ اور اس طرح پر ہماری قلموں کے ذریعہ سے یہ گورنمنٹ ہزاروں دلوں کو فتح کرتی جاتی ہے۔
دیسی پادریوں کے نہایت دل آزار حملے اور توہین آمیز کتابیں درحقیقت ایسی تھیں کہ اگر آزادی کے ساتھ ان کی مدافعت نہ کی جاتی اور ان کے سخت کلمات کے عوض میں کسی قدر مہذبانہ سختی استعمال میں نہ آتی تو بعض جاہل جو جلد تر بدگمانی کی طرف جھک جاتے ہیں شاید یہ خیال کرتے کہ گورنمنٹ کو پادریوں کی خاص رعایت ہے۔ مگر اب ایسا خیال کوئی نہیں کرسکتا۔ اور بالمقابل کتابوں کے شائع ہونے سے وہ اشتعال جو پادریوں کی سخت تحریروں سے پیدا ہونا ممکن تھا اندر ہی اندر دب گیا ہے۔ اور لوگوں کو معلوم ہوگیا ہے کہ ہماری گورنمنٹ عالیہ نے ہر ایک مذہب کے پیرو کو اپنے مذہب کی تائید میں عام آزادی دی ہے جس سے ہر ایک فرقہ برابر فائدہ اٹھا سکتا ہے پادریوں کی کوئی خصوصیت نہیں۔ غرض ہماری بالمقابل تحریروں سے گورنمنٹ کے پاک ارادوں اور نیک نیتی کا لوگوں کو تجربہ ہوگیا۔ اور اب ہزارہا آدمی انشراح صدر سے اس بات کے قائل ہوگئے ہیں کہ درحقیقت یہ اعلیٰ خوبی اس گورنمنٹ کو حاصل ہے کہ اس نے مذہبی تحریرات میں پادریوں کا ذرہ پاس نہیں کیا اور اپنی رعایا کو حق آزادی برابر طور پر دیا ہے۔
مگر تاہم نہایت ادب سے گورنمنٹ عالیہ کی خدمت میں عرض ہے کہ اس قدر آزادی کا بعض دلوں پر اچھا اثر محسوس نہیں ہوتا۔ اور سخت الفاظ کی وجہ سے قوموں میں تفرقہ اور