اِذَا وقع العَبْد فی اُلھانیّۃ الرب و مھیمنیّۃ الصِدِّیقین و رھبانیّۃ الابرار لَم یَجد احدًا یَأْخُذُ بِقَلْبِہٖ۔ یعنی جب کسی بندہ کے دل میں خدا کی عظمت اور اس کی محبت بیٹھ جاتی ہے اور خدا اس پر محیط ہو جاتا ہے جیسا کہ وہ صدّیقوں پر محیط ہوتا ہے اور اپنی رحمت اور خاص عنایت کے اندر اس کو لے لیتاہے۔ اور ابرار کی طرح اس کو غیروں کے تعلقات سے چھڑا دیتا ہے تو ایسا بندہ کسی کو ایسا نہیں پاتا کہ اپنی عظمت یا وجاہت یا خوبی کے ساتھ اس کے دل کو پکڑلے۔ کیونکہ اس پر ثابت ہو جاتا ہے کہ تمام عظمت اور وجاہت اور خوبی خدا میں ہی ہے۔ پس کسی کی عظمت اور جلال اور قدرت اس کو تعجب میں نہیں ڈالتی اور نہ اپنی طرف جھکا سکتی ہے۔ سو اس کو دوسروں پر صرف رحم باقی رہ جاتا ہے۔ خواہ بادشاہ ہوں یا شہنشاہ ہوں۔ کیونکہ اس کو ان چیزوں کی طمع باقی نہیں رہتی جو ان کے ہاتھ میں ہیں۔ جس نے اس حقیقی شہنشاہ کے دربار میں بار پایا جس کے ہاتھ میں ملکوت السموات والارض ہے پھر فانی اور جھوٹی بادشاہی کی عظمت اس کے دل میں کیونکر بیٹھ سکے؟ میں جو اس ملیک مقتدر کو پہچانتا ہوں تو اب میری روح اس کو چھوڑ کر کہاں اور کدھر جائے؟ یہ روح تو ہر وقت یہی جوش مار رہی ہے کہ اے شاہ ذوالجلال ابدی سلطنت کے مالک سب ملک اور ملکوت تیرے لئے ہی مسلم ہے۔ تیرے سوا سب عاجز بندے ہیں بلکہ کچھ بھی نہیں۔ آن کَس کہ بتو رَسَد شہانرا چہ کُند با فرّ تو فرّ خسروان را چہ کند چون بندہ شناختت بدان عزّوجلال بعد از تو جلال دیگران را چہ کند دیوانہ کنی ہر دوجہانش بخشی دیوانہ تو ہر دو جہان را چہ کند الراقم میرزا غلام احمد از قادیان ۲۵ ؍جون ۱۸۹۷ ؁ء مطبوعہ ضیاء الاسلام قادیان