یہ عظیم الشان مقدمہ مجھ میں اور اس بزرگ میں دائر ہوگیا ہے اب حقیقت میں جو روسیاہ ہے وہی روسیاہ ہوگا۔ اس بزرگ کو روم کے ایک ظاہری فرمانروا کے لئے جوش آیا اور خدا کے قائم کردہ سلسلہ پر تھوکا اور اس کے مامور کو پلید قرار دیا۔ حالانکہ سلطان کے بارے میں مَیں نے ایک لفظ بھی منہ سے نہیں نکالا تھا صرف اس کے بعض ارکان کی نسبت بیان کیا تھا اور یا اس کی گورنمنٹ کی نسبت جو مجموعہ ارکان سے مراد ہے ملہمانہ خبر تھی۔ سلطان کی ذاتیات کا کچھ بھی ذکر نہ تھا۔ لیکن پھر بھی اس بزرگ نے وہ شعر میری نسبت پڑھا کہ شاید مثنوی کے مرحوم مصنّف نے نمرود اور شدّاد اور ابوجہل اور ابولہب کے حق میں بنایا ہوگا۔ اور اگر میں سلطان کی نسبت کچھ نکتہ چینی بھی کرتا تب بھی میرا حق تھا۔ کیونکہ اسلامی دنیا کے لئے مجھے خدا نے حَکَمْ کر کے بھیجا ہے جس میں سلطان بھی داخل ہے۔ اور اگر سلطان خوش قسمت ہو تو یہ اس کی سعادت ہے کہ میری نکتہ چینی پر نیک نیتی کے ساتھ توجہ کرے اور اپنے ملک کی اصلاحوں کی طرف جدوجہد کے ساتھ مشغول ہو۔ اور یہ کہنا کہ ایسے ذکر سے کہ زمین کی سلطنتیں میرے نزدیک ایک نجاست کی مانند ہیں۔ اس میں سلطان کی بہت بے ادبی ہوئی ہے یہ ایک دوسری حماقت ہے۔ بے شک دنیا خدا کے نزدیک مُردار کی طرح ہے۔ اور خدا کو ڈھونڈنے والے ہرگز دنیا کو عزت نہیں دیتے۔ یہ ایک لاعلاج بات ہے جو روحانی لوگوں کے دلوں میں پیدا کی جاتی ہے کہ وہ سچی بادشاہت آسمان کی بادشاہت سمجھتےؔ ہیں اور کسی دوسرے کے آگے سجدہ نہیں کر سکتے۔ البتہ ہم ہر ایک منعم کا شکر کریں گے۔ ہمدردی کے عوض ہمدردی دکھلائیں گے۔ اپنے محسن کے حق میں دعا کریں گے۔ عادل بادشاہ کی خداتعالیٰ سے سلامتی چاہیں گے گو وہ غیر قوم کا ہو۔ مگر کسی سفلی عظمت اور بادشاہت کو اپنے لئے بُت نہیں بنائیں گے۔ ہمارے پیارے رسول سیّد الکائنات صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ