بسمؔ اللہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم حُسَیْن کَامِیْ سفیر سُلطان رُوم پرچہ اخبار ۱۵؍ مئی ۱۸۹۷ ؁ء ناظم الہند لاہور میں جو ایک شیعہ اخبار ہے سفیر مذکور العنوان کا ایک خط چھپا ہے جو بالکل گندہ اور خلاف تہذیب اور انسانیت ہے اور اس خط کے عنوان میں یہ لکھا ہے کہ سفیر صاحب متواتر درخواستوں کے بعد قادیان میں تشریف لے گئے اور پھر متاسف اور مکدر اور ملول خاطر واپس آئے اور پھر یہی ایڈیٹر لکھتا ہے کہ یہ سنا گیا تھا کہ سفیر صاحب کو اس لئے قادیان بلایا تھا کہ ان کے ہاتھ پر توبہ کریں۔ کیونکہ وہ نائب حضرت خلیفۃ المسلمین ہیں۔ ان افتراؤں کا بجز اس کے کیا جواب دیں کہ لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ۔ اللہ تعالیٰ اس بات پر گواہ ہے کہ مجھے دنیاداروں اور منافقوں کی ملاقات سے اس قدر بے زاری اور نفرت ہے جیسا کہ نجاست سے۔ مجھے نہ سلطان روم کی طرف کچھ حاجت ہے اور نہ اس کے کسی سفیر کی ملاقات کا شوق ہے۔ میرے لئے ایک سلطان کافی ہے جو آسمان ا ور زمین کا حقیقی بادشاہ ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ قبل اس کے کہ کسی دوسرے کی طرف مجھے حاجت پڑے اس عالم سے گذر جاؤں۔ آسمان کی بادشاہت کے آگے دنیا کی بادشاہت اس قدر بھی مرتبہ نہیں رکھتی جیسا کہ آفتاب کے مقابل پر ایک کیڑا مرا ہوا پھر جبکہ ہمارے بادشاہ کے آگے سلطان روم ہیچ ہے تو اس کا سفیر کیا چیز۔ میرے نزدیک واجب التعظیم اور واجب الاطاعت اور شکرگذاری کے لائق گورنمنٹ انگریزی ہے جس کے زیر سایہ امن کے ساتھ یہ آسمانی کارروائی میں کر رہا ہوں۔ ترکی سلطنت آج کل تاریکی سے بھری ہوئی ہے اور وہی شامت اعمال بھگت رہی ہے اور ہرگز ممکن نہیں کہ اس کے زیر سایہ رہ کر ہم کسی راستی کو پھیلا سکیں۔ شاید بہت سے لوگ اس فقرہ سے ناراض ہوں گے مگر یہی حق ہے۔ یہی باتیں ہیں کہ