تہذیب کا دعویٰ تھا گالیاں دیتے اور اس بزرگ نبی کا نام نعوذ باللہ زانی اور ڈاکو اور چور رکھتے اور دنیا کے سب بدتروں سے بدتر ٹھہراتے۔ بیشک یہ ان لوگوں کے لئے بڑے رنج کی بات ہے جو اس پاک رسول کی راہ میں فدا ہیں۔ اور ایک دانشمند عیسائی بھی احساس کر سکتا ہے کہ جب مثلاً ایسی کتاب اُمّہات المؤمنین میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذ باللہ زنا کار کے نام سے پکارا گیا اور گندے سے گندے تحقیر کے الفاظ آنجناب کے حق میں استعمال کئے گئے اور پھر عمداً ہزار کاپی اس کتاب کی محض دلوں کے دُکھانے کے لئے عام اور خاص مسلمانوں کو پہنچائی گئی اس سے کس قدر دردناک زخم عام مسلمانوں کو پہنچے ہوں گے اور کیا کچھ ان کے دلوں کی حالت ہوئی ہوگی۔ اگرچہ بدگوئی میں یہ کچھ پہلی ہی تحریر نہیں ہے بلکہ ایسی تحریروں کی پادری صاحبوں کی طرف سے کروڑہا تک نوبت پہنچ گئی ہے مگر یہ طریق دل دُکھانے کا ایک نیا طریق ہے کہ خواہ نخواہ غافل اور بے خبر لوگوں کے گھروں میں یہ کتابیں پہنچائی گئیں۔ اور اسی وجہ سے اس کتاب پر بہت شور بھی اٹھا ہے۔ باوجود اس بات کے کہ پادری عماد الدین اور پادری ٹھاکرداس کی کتابیں اور نور افشاں کی پچیس سال کی مسلسل تحریریں سختی میں اس سے کچھ کم نہیں ہیں۔ یہ تو سب کچھ ہوا مگر ہمیں تو آیۃ موصوفہ بالا میں یہ تاکیدی حکم ہے کہ جب ہم ایسی بدزبانی کے کلمات سنیں جس سے ہمارے دلوں کو دکھ پہنچے تو ہم صبر کریں اور کچھ شک نہیں کہ جلد تر حکام کو اس طرف متوجہ کرنا یہ بھی ایک بے صبری کی قسم ہے۔ اس لئے عقلمند اور دور اندیش مسلمان ہرگز اس طریق کو پسند نہیں کرتے کہ گورنمنٹ عالیہ تک اس بات کو پہنچایا جائے۔ ہمیں خداتعالیٰ نے قرآن میں یہ بھی تعلیم دی ہے کہ دین اسلام میں اکراہ اور جبر نہیں جیسا کہ وہ فرماتا ہے 3۱؂ ۔ اور جیسا کہ فرماتا ہے 3۲؂ ۔ لیکن اس قسم کے حیلے اکراہ اور جبر میں داخل ہیں جس سے اسلام جیسا پاک اور معقول مذہب بدنام ہوتا ہے۔ غرض اس بارے میں مَیں اور میری جماعت اور تمام اہل علم اور صاحب تدبر مسلمانوں میں سے اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ کتاب اُمّہات المؤمنین کی لغو گوئی کی یہ سزا نہیں ہے کہ ہم اپنی گورنمنٹ محسنہ کو دست اندازی کے لئے توجہ دلاویں گو خود دانا گورنمنٹ اپنے قوانین کے لحاظ سے جو چاہے کرے مگر ہمارا صرف یہ فرض ہونا چاہئیے کہ ہم ایسے اعتراضات کا کہ جو درحقیقت نہایت نادانی یا دھوکہ دہی کی غرض سے کئے گئے ہیں خوبی اور شائستگی کے ساتھ جواب دیں اور پبلک کو اپنی حقیت اور اخلاق کی روشنی دکھلائیں۔ اسی غرض کی بنا پر یہ میموریل روانہ کیا گیا ہے۔ اور تمام جماعت ہماری معزز مسلمانوں کی اسی پر متفق ہے۔ الراقم خاکسار میرزا غلام احمد از قادیاں ضلع گورداسپور