بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہٗ و نصلّی علٰی رسولہ الکریم جلسۂ طاعون چونکہ یہ قرین مصلحت ہے کہ ایک جلسہ دربارہ ہدایات طاعون قادیاں میں منعقد ہو اور اس جلسہ میں گورنمنٹ انگریزی کی ان ہدایتوں کے فوائد جو طاعون کے بارے میں اب تک شائع ہوئی ہیں مع طبّی اور شرعی ان فوائد کے جو اُن ہدایتوں کی مؤید ہیں اپنی جماعت کو سمجھائے جائیں۔ اس لئے یہ اشتہار شائع کیا جاتا ہے کہ ہماری جماعت کے احباب حتّی الوسع کوشش کریں کہ وہ اس جلسہ میں عیداضحی کے دن شامل ہو سکیں۔ اصل امر یہ ہے کہ ہمارے نزدیک اس بات پر اطمینان نہیں ہے کہ ان ایام گرمی میں طاعون کا خاتمہ ہو جائے گا بلکہ جیسا کہ پہلے اشتہار میں شائع کیا گیا ہے دو جاڑوں تک سخت اندیشہ ہے۔ لہٰذا یہ وقت ٹھیک وہ وقت ہے کہ ہماری جماعت بنی نوع کی سچی ہمدردی اور گورنمنٹ عالیہ انگریزی کی ہدایتوں کی دل و جان سے پیروی کر کے اپنی نیک ذاتی اور نیک عملی اور خیر اندیشی کا نمونہ دکھاوے اور نہ صرف یہ کہ خود ہدایات گورنمنٹ کے پابند ہوں بلکہ کوشش کریں کہ دوسرے بھی ان ہدایتوں کی پیروی کریں۔ اور بدبخت احمقوں کی طرح فتنہ انگیز نہ بنیں۔ افسوس ہمارے ملک میں یہ سخت جہالت ہے کہ لوگ مخالفت کی طرف جلد مائل ہو جاتے ہیں۔ مثلاً اب گورنمنٹ انگریزی کی طرف سے یہ ہدایتیں شائع ہوئیں کہ جس گھر میں طاعون کی واردات ہو وہ گھر خالی کر دیا جائے اس پر بعض جاہلوں نے ناراضگی ظاہر کی۔ لیکن میں خیال کرتا ہوں کہ اگر گورنمنٹ کی طرف سے یہ حکم ہوتا کہ جس گھر میں طاعون کی واردات ہو وہ لوگ ہرگز اس گھر کو خالی نہ کریں اور اسی میں رہیں تب بھی نادان لوگ اس حکم کی مخالفت کرتے اور دو تین واردات کے بعد اس گھر سے نکلنا شروع کر دیتے۔ سچ تو یہ ہے کہ نادان انسان کسی پہلو سے خوش نہیں ہوتا۔ پس گورنمنٹ کو چاہئیے کہ نادانوں کی بیجا واویلا سے اپنی سچی خیر خواہی رعایا کو ہرگز نہ چھوڑے کہ یہ لوگ ان بچوں کا حکم رکھتے ہیں کہ جو اپنی ماں کی کسی کارروائی کو پسند نہیں کر سکتے۔ ہاں ایسی ہمدردی کے موقعہ پر نہایت درجہ کی ضرورت ہے کہ ایسی حکمت عملی ہو جو رعب بھی ہو اور نرمی بھی ہو۔ اور نیز اس ملک میں رسوم پردہ داری کی غایت درجہ رعایت چاہئیے اور اس مصیبت میں جو طاعون زدہ لوگوں اور ان کے عزیزوں کو جو مشکلات اوقات بسری کے پیش آئیں شفقت پدری کی طرح حتی الوسع ان مشکلات کو آسان کرنا چاہئیے۔ بہتر ہے کہ اس وقت سب لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں تا انجام بخیرہو ۔ والسّلام علی من اتبع الہدیٰ۔ الراقم خاکسار میرزا غلام احمد از قادیاں ضلع گورداسپور ۲۲؍ اپریل ۱۸۹۸ء نوٹ: یاد رہے کہ اگرچہ ہماری جماعت کا یہ ایک جلسہ ہے لیکن اگر کوئی شریف نیک اندیش اس جلسہ میں شامل ہونا چاہے تو خوشی سے اُس کی شمولیت منظور کی جائے گی۔ منہ (مطبع ضیاء الاسلام قادیان)