طور پر انتظام کیا گیا کہ شبہ عائد نہ وہ ۔ عبدالرحیم کا یہ خیال تھا کہ وہ نوجوان قادیاں سے اس کو قتل کرنے کیلئے بھیجا گیا ہے مگر ڈاکٹر کلارک نے صورت حالات سے مطلع ہو کر یہ نتیجہ نکالا کہ میں ہی مقصود قربانی ہوں لہٰذا وہ بیاس کو گیا اور روبروئے عبدالرحیم و پریمداس و وارث الدین و نہالچند اور خود ڈاکٹر کلارک کے نوجوان عبدالحمیدنے بعد انکار و عذرات اور نیز ڈاکٹر کلارک کے اس وعدہ کے بعد کہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا یہ اقبال کیا کہ مرزا غلام احمد نے اس سے کہاتھا کہ جاؤ اور ڈاکٹر کلارک کو کسی مناسب موقعہ پر نقصان پہنچاؤ یعنی قتل کرو ۔ اس نے آخر کار بموجودگی اشخاص مذکورہ بالا یہ اقبال تحریر کیا ۔ بعد ازاں اس نے بیان کیا کہ اس نے قادیان کو مولوی نورالدین کے نام اس غرض سے خط لکھا ہے کہ ان کو پتہ معلوم ہوجائے کہ میں کہاں ہوں ۔ اس نے علانیہ مرزا صاحب کو *** بھیجی تاکہ مؤ خر الذکر شخص کی طرف سے شبہ پیدا نہ ہو ۔ اس پر ڈاکٹر کلارک عبدالحمید کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ امرتسر کے پاس لے گیا اور بعد اس کے اس کا بیان قلمبند ہوا ۔ بدرخواست ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس ڈاکٹر مذکور نے نوجوان کو اپنی حفاظت میں لیا تا وقتیکہ اس کا آخری اظہار عدالت میں قلمبند نہ ہوا ۔ ایک گواہ پریمداس نامی نے بیان کیا کہ اس نے بیاس پر دو آدمی دیکھے تھے جو عبدالحمیدکو پوچھتے پھرتے تھے اور ڈاکٹرؔ کلارک اور ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس کو اندیشہ تھا کہ مبادا اسے کچھ ضرر پہنچایا جائے ۔ عبدالحمید کی شہادت سے جو اس نے عدالت میں دی یہ ظاہر ہوا کہ وہ قادیاں میں دو دفعہ گیا ہے ایک دفعہ ماہ مئی میں پانچ روز کے لئے اور پھر ماہ جون میں قریب دس دن کے لئے۔ وہ مرزا صاحب کو پہلے کبھی نہیں جانتا تھا اس کے دو چچوں میں سے ایک چچابرہان الدین مرزا صاحب
اور ؔ یہ کیسا ظلم ہے کہ جہنم میں تو محض روح جائے اور خدا کے پاس جسم اور روح دونوں جائیں ۔ کیا عیسائیوں کا یہ مذہب نہیں ہے کہ جہنم ایک جسمانی آتش خانہ ہے جس میں گندھک کے بڑے بڑے پتھر ہیں پھر اس آتش خانہ میں ایسا جسم کیوں نہیں جلایا گیا جس پر تمام دنیا کی لعنتیں ڈالی گئی تھیں ۔ اگر باپ نے عدل سے انحراف کر کے بیٹے کی یہ رعایتیں کیں کہ بجائے ابدی *** کے تین دن رکھے اور بجائے جسمانی جہنم کے صرف روح کو جہنم میں بھیج دیا تو کاش یہ رعایتیں مخلوق سے کی جاتیں کیونکہ اگر بیٹے