اس نوجوان نے جانے سے پہلے غلام احمد کو علانیہ گالیاں نکالی تھیں ۔ اور تحقیقات سے ظاہر ہوا کہ نوجوان ایک مشہور خاندان مولویاں سکنہ جہلم سے ہے اس کا ایک چچا جو برہان الدین غازی کے نام سے مشہور ہے مرزا صاحب کا مرید ہے ۔ یہ پایا گیا کہ وہ گجرات اور پنڈی میں بطور متلاشی عیسائی کے رہتا رہا ہے مگر گجرات مشن سے زناکاری اور دروغ گوئی کی وجہ سے نکال دیا گیاتھا ۔ اس کا یہ بیان کہ وہ جنم سے برہمن ہے جھوٹا ہے اس کا اصلی نام عبدالحمید ہے ۔ وہ قادیان میں سات برس تک نہیں رہا بلکہ صرف چند روز رہا ۔ عبدالرحیم قاصد نے جو قادیان بھیجا گیا تھا ڈاکٹر کلارک کی توجہ کو اس امر واقعہ کی طرف منتقل کیا کہ نوجوان کی آنکھ خونی معلوم ہوتی ہے اور چونکہ ڈاکٹر کلارک مجرمانہ علم قیافہ کا عالم ہے اس نے اس کی وضع قطع میں وہ خط وخال معلوم کئے جو اس کے قاتلانہ میلان کے شاہد تھے۔ مزید براں وہ ایک متعصب خاندان سے تعلق رکھتا ہے اس نے خیال کیا کہ چونکہ قادیاں میں عام طور سے گالیاں دی گئیں اور نیز اس خیال سے کہ عبدالحمید کو باوجود مولویوںؔ کا رشتہ دار ہونے کے کمینہ کام کرنے کو دیا گیا ہے یہ مرزا صاحب کی طرف سے اس واسطے پیش بندی کے غرضؔ اس تمام تحقیقات سے ثابت ہے کہ یسوع کا آسمان پر معہ جسم جانا ایک جھوٹا مسئلہ ہے جو عیسائیوں نے بنایا ہے ۔ جس حالت میں عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ نعوذ باللہ یسوع جہنم میں جسم کے ساتھ نہیں گیا بلکہ محض روح گئی تھی تو وہ جسم جو جہنم کی سزا پا کر *** سے ابھی پاک نہیں کیا گیا وہ آسمان پر کیونکر چڑھ گیا ۔ کہ تین دن جو *** کے دن تھے یسوع جہنم کا عذاب بھگتتا رہا *۔ اور کتاب راہ زندگی مطبوعہ الہ آباد ۱۸۵۰ء ؁ صفحہ ۶۹ سطر ۸ میں لکھاہے کہ ’’ یہ سزا ( یعنے گنہگار کی سزا )اکثر موت کے لفظ سے مذکور ہوتی ہے موت نہ صرف جسم کی بلکہ روح کی بھی نہ صرف دنیاوی بلکہ ابدی ‘‘۔ اور اسی کتاب راہ زندگی میں جو تالیف ڈاکٹر ہاج ڈی ڈی باشندہ امریکہ ہے لکھا ہے کہ ’’ *** اور موت اور غضب اور وہ سزا جو گنہگاروں کو ملے گی سب ایک ہی چیز ہیں ‘‘ اور پھر یہی اس عقیدہ کی تائید میں لکھتاہے کہ ’’ مسیح نے کہا ہے کہ گنہگار جہنم کی اس آگ میں جو کبھی نہیں بجھے گی ڈالے جائینگے ‘‘ (مرقس ۹ باب ۴۱) منہ *بعض نادان عیسائی کہتے ہیں کہ یسوع ہادس یعنی جہنم میں تحت الثرےٰ کے قیدیوں کو منادی کرنے گیا تھا مگر ایک دانا سوچ سکتا ہے کہ *** کے دنوں کا کیا تقاضا تھا ۔ کیا سزا اٹھانے کے لئے جانا یا نصیحت کے لئے ۔ ایک ملعون دوسرے کو کیا نصیحت کر سکتا ہے اور پھر دوزخیوں کو نصیحت کیا فائدہ کرے گی مر کر توہر ایک شخص راہ راست کو سمجھ جاتا ہے اور اگر اس وقت کا سمجھنا کچھ چیز ہے تو پھر ایک بھی دوزخ میں نہیں رہ سکتا ۔ منہ