برہان الدین بھی میرے سے دشمنی کرتا ہے۔ برہان الدین اور سلطانؔ محمود الگ الگ مسجدوں میں ہیں۔ جہلم سے پہلے پہل مونگ رسول گیا تھا۔ پادری ڈال گئی صاحب کے پاس گجرات میں رہا تھا۔ گجرات میں پادری صاحب کے پاس تین چار ماہ رہا تھا۔ وہاں بائبل پڑھی تھی۔ اس وقت مذہب عیسائی پسند آیا تھا۔ چال چلن کی وجہ سے بپتسمہ نہیں ملا تھا۔ کیونکہ میں محمدی لوگوں کو پسند کرتا تھا۔ پادری صاحب نے ایک آدمی اللہ دتا عیسائی میرے ساتھ کیا تھا اور کہا تھاکہ پنڈی کا اس کو ٹکٹ لے دو۔ اور پنڈی جاوے۔ میں یوسف کو جانتا ہوں۔ اس کے پاس جانا تھا۔ اس
لئے جاتا تھا۔ اللہ دتا میرے ہمراہ اسٹیشن پر نہیں آیا تھا۔ امیر الدین مرزا صاحب کا مرید مجھے
قرآن شریف نے صاف صاف لفظوں میں فرما دیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو ؔ گئے ہیں۔ دیکھو آیت3۔۱ صاف ظاہر کر رہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پاگئے ہیں اور صحیح بخاری میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور نیز حدیث نبوی سے اس بات کا ثبوت دے دیا ہے کہ اس جگہ توفّیکے معنے مار دینے کے ہیں۔ اور یہ کہنا بیجا ہے کہ ’’یہ لفظ توفیتنی جو ماضی کے صیغہ میں آیا ہے دراصل اس جگہ مضارع کے معنے دیتا ہے یعنی ابھی نہیں مرے بلکہ آخری زمانہ میں جا کر مریں گے‘‘۔ کیونکہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جناب الٰہی میں عرض کرتے ہیں کہ میری امت کے لوگ میری زندگی میں نہیں بگڑے بلکہ میری موت کے بعد بگڑے ہیں۔ پس اگر فرض کیا جائے کہ اب تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے تو ساتھ ہی یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ اب تک نصاریٰ بھی نہیں بگڑے۔ کیونکہ آیت میں صاف طور پر بتلایا گیا کہ نصاریٰ کا بگڑنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کے بعد ہے اور اس سے زیادہ اور کوئی سخت بے ایمانی نہیں ہوگی کہ ایسی نص صریح سے انکار کیا جائے۔
اب جس حالت میں قرآن شریف کے صاف لفظوں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت ہی ثابت ہوتی ہے اور دوسری طرف قرآن شریف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام خاتم النبیین
*حدیث میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا اور حلیہ تھا اور آنے والے مسیح موعود کا اور حلیہ۔ سو یہ دو مختلف حُلیے بتلا رہے ہیں کہ وہ مسیح اور تھا یہ اور ہے۔ دیکھو صحیح بخاری۔ منہ