ڈاکٹر صاحب کو لکھا تھا۔ (بسوال وکیل ملزم) لقمان جبؔ میں چھ سال کی عمر کا تھا مرگیا تھا۔ میں نے 3روپیہ بغیر علم سلطان محمود کے گھر سے لئے تھے۔ گھر والی عورتوں کو اطلاع کر دی تھی اور نہر پر چلا گیا تھا۔ میرے دو بھائی اور محمد کامل و محمد عالم گھر پر ہیں۔ میں نے محمد عالم کا زیور نہیں لیا۔ اس نے جھوٹا دعویٰ کیا تھا کہ اس کے پاس میرا روپیہ تھا۔ پانچ چھ سال کی بات ہے۔ باپ کی زمین پر دوسرے بھائی میرے قابض ہیں۔ حصہ پیداوار لیتا ہوں وہ میری طرف سے کاشت کرتے ہیں۔ جائداد کی وجہ سے اور سوتیلے بھائی ہونے کی وجہ سے مجھ سے خفا رہتے ہیں۔
سات ماہ سے جہلم سے نکلا ہوا ہوں۔ برہان الدین کا لڑکا محمد کامل کی لڑکی سے منسوب ہے
۱سے بھی اس بات کی تصدیق کرتا تھا کہ فی اؔ لحقیقت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہو چکی ہے۔ پھر کیونکر ممکن تھا کہ کوئی نبی نبوت کے حقیقی معنوں کے رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تشریف لاوے۔ اس سے تو تمام تار و پود اسلام درہم برہم ہو جاتا تھا۔ اور یہ کہنا کہ ’’حضرت عیسیٰ نبوت سے معطل ہو کر آئے گا‘‘۔ نہایت بے حیائی اور گستاخی کا کلمہ ہے۔ کیا خداتعالیٰ کے مقبول اور مقرب نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسے اپنی نبوت سے معطّل ہو سکتے ہیں؟ پھر کون سا راہ اور طریق تھا کہ خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آتے۔ غرض قرآن شریف میں خداتعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام خاتم النبیین رکھ کر اور حدیث میں خود آنحضرت نے لا نَبِیّ بَعْدِی فرما کر اس امر کا فیصلہ کر دیا تھا کہ کوئی نبی نبوت کے حقیقی معنوں کے رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں آ سکتا اور پھر اس بات کو زیادہ واضح کرنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرما دیا تھا کہ آنے والا مسیح موعود اسی امت میں سے ہوگا۔ چنانچہ صحیح بخاری کی حدیث اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ اور صحیح مسلم کی حدیث فامّکم منکم جو عین مقام ذکر مسیح موعود میں ہے صاف طور پر بتلا رہی ہے کہ وہ مسیح موعود اسی امت میں سے ہوگا۔!!!
پھر دوسرا فیصلہ کہ جو اس بارے میں قرآن اور حدیث نے کر دیا یہ موجود تھا کہ