اس نے نکالا نہ تھا۔ وہاں سے نہر پر چلا گیا تھا۔ بوجہ نہ کام کرنے کے سلطاؔ ن محمود ناراض ہوا تھا۔ برہان الدین اور سلطان محمود کا مذہبی تفرقہ ہے۔ برہان الدین مرزا صاحب کا مرید ہے۔ سلطان محمود نہیں ہے۔ اس بات سے ایک دوسرے کو بُرا سمجھتے ہیں۔ قادیاں میں جوبلی کے موقعہ پر میں نہ تھا۔ بعد میں آیا تھا۔ برہان الدین کو میں نے جب گیا وہاں دیکھا تھا۔ تین چار دفعہ مرزا صاحب نے قتل کی بابت مجھ سے ذکر کیا تھا کہ دین محمدی پر ہو کر قتل کرو گے تو مقبول ہو گے کیونکہ کلارک صاحب مخالف مذہب ہے۔ پانچوں وقت مرزا صاحب جب مسجد میں نماز کے واسطے آیا
کہؔ ہمارے سید و مولیٰ حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلمخاتم الانبیاء ہیں اور ہم فرشتوں اور معجزات اور تمام عقائد اہل سنت کے قائل ہیں۔ صرف یہ فرق ہے کہ ہمارے مخالف اپنی جہالت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کو حقیقی طور پر انتظار کرتے ہیں اور ہم بروزی طور پر جیسا کہ تمام متصوّفین کا مذہب ہے اور ہم مانتے ہیں کہ نزول مسیح کی پیشگوئی پوری ہوگئی۔
رہی یہ بات کہ میرے اس دعویٰ مسیح ہونے پر دلیل کیا ہے تو واضح ہو کہ آثار صحیحہ سے یہ ثابت ہے کہ جو شخص عیسائیت کے فتنہ کے وقت عیسیٰ پرستی کے فتنہ کو دور کرنے کے لئے صدی کے سرپر بطور مجدّد کے ظاہر ہوگا اسی مجدّد کا نام مسیح ہے۔ پھر بعد اس کے احادیث کی غلط فہمی سے عوام نے یوں سمجھ لیا کہ خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہو کر صدی کا مجدّد ہوگا اور صدی کے سر پر آئے گا اور اکثر علماء کی یہی رائے قائم ہوئی کہ وہ چودھویں صدی ہوگی۔ لیکن اس خیال میں غلطی یہ ہوئی کہ اصل منشاء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تھا کہ جس مجدّد کو اس امت کے مجدّدوں میں سے عیسائی حملوں کی مدافعت میں اسلام کی نصرت کرنی پڑے گی اس کا نام بلحاظ عیسائیت کی اصلاح کے مسیح ہوگا۔ مگر ان لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ خود مسیح کسی زمانہ میں آسمان سے اتر آئے گا حالانکہ یہ صریح غلطی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فصیح اور پُرحکمت بیان میں یہ غیر موزوں اور بے تعلق اور