کر دینا۔ میرے باپ کا نام لقمان ہے۔ سلطان محمود غلطی سے لکھایا تھا۔ سلطان ؔ محمود کے ساتھ شادی مکرر میری ماں نے کی تھی۔ پہلے غلطی سے لکھایا ہے کہ لقمان سے شادی ہوئی تھی۔ سلطان محمود کی ایک لڑکی ہے۔ لقمان کا اور بیٹا ہے جو میرا بھائی ہے۔ ہم تین بھائی ہیں۔ میں نے بپتسمہ کبھی نہیں لیا متلاشی رہا تھا۔ مالاکنڈ میں فوج کے ساتھ نہیں گیا تھا۔ بوجہ کام نہ ہو سکنے کے مجھے برخاست کیا گیا تھا۔ جب واپس مالاکنڈ سے آیا متلاشی نہ تھا۔ محمدی تھا۔ دو سال کے قریب اس بات کو ہوئے ہیں۔ قادیان آنے سے پہلے سلطان محمود مجھ سے ناراض ہوا تھا۔ اسی اؔ مت میں سے ہوگا۔ اور اسی طرح صحیح مسلم میں فَاَمَّکُمْ مِنْکُمْ لکھا تھا یعنی مسیح تم میں سے ایک امتی آدمی ہوگا اور تمہارا امام ہوگا۔ کیا یہ باتیں تسلی پانے کے لئے کافی نہ تھیں؟ کیا یہ امر تسلی بخش نہ تھا کہ قرآن نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا فوت ہو جانا بیان فرمایا؟ حدیثوں میں ان کی عمر ایک سو بیس برس لکھ کر یہ اشارہ فرمایا کہ وہ ۱۲۰ ؁ عیسوی میں ضرور فوت ہوگئے ہیں۔ توفّی کے معنے مارنا بیان فرمایا گیا اور آیت 3 ۱؂ نے صاف طور پر خبر دے دی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے اور وہ جھگڑا جو اس سے پہلے ہو چکا ہے جو یہود اور حضرت عیسیٰ میں ایلیا نبی کے نزول کے بارے میں تھا کوئی ایسا مسلمان نہیں کہ اس میں یہود کو سچا قرار دے۔ سو دنیا میں دوبارہ آنے کے معنے جو ایک نبی نے کئے وہی معنے ہم حضرت عیسیٰ کے نزول کے بارے میں کرتے ہیں۔ مگر ہمارے مخالف مولوی جو معنے کرتے ہیں ان کے پاس ان معنوں کی کوئی سند موجود نہیں۔ اب سوچنا چاہئے کہ ہم تو اس عقیدہ کو پیش کرتے ہیں جس کی پہلی کتابوں میں نظیر موجود ہے اور جس کا قرآن مصدق ہے۔ اور ہمارے مخالف حضرت عیسیٰ کے نزول کے بارے میں اس عقیدہ کو پیش کرتے ہیں جس کی تمام انبیاء کے سلسلہ میں کوئی نظیر موجود نہیں اور قرآن اس کا مکذب ہے۔ پھر ہمارے مخالف جبکہ اس بحث میں عاجز آ جاتے ہیں تو افترا کے طور پر ہم پر یہ تہمت لگاتے ہیں کہ گویا ہم نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور گویا ہم معجزات اور فرشتوں کے منکر ہیں۔ لیکن یاد رہے کہ یہ تمام افترا ہیں۔ ہمارا ایمان ہے