دو تین روز وہاں رہا تھا۔ چالیس روپیہ چچا لقمان کے گھر سے پہلی دفعہ لے آیا تھا۔
سنایا گیا درست ہے۔ عبدالحمید دستخط حاکم
نقل ؔ تتمہ بیان عبدالحمید مشمولہ مثل فوجداری باجلاس کپتان ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب بہادر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپورہ
مرجوعہ
فیصلہ
نمبر بستہ
نمبر مقدمہ
۹؍ اگست ۷ ۹ء
زیر تجویز
از محکمہ
۴؍۳
سرکار بذریعہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب جرم ۱۰۷ ضابطہ فوجداری بنام میرزا غلام احمد قادیانی
تتمہ بیان عبدالحمید باقرار صالح بسوال عدالت
۲ بجے دن نماز ظہر کے وقت مرزا صاحب نے مجھے کہا تھا کہ جاؤ کلارک صاحب کو مارو۔ مسجد کے
دستخط حاکم
15/8/97
مہر عدالت
دوبارہ دنیا میں آنا ضروری ہے تو اس صورت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سچے نبی نہیں ٹھہر سکتے اور سچے اسی حالت میں ٹھہر سکتے ہیں کہ جب ایلیا نبی کے واپس آنے کی کوئیؔ تاویل کی جائے۔ یعنی یہ کہ ایلیا کے دوبارہ آنے سے کسی مثیل ایلیا کا آنا مراد لیا جائے اور وہ مثیل یوحنا تھا یعنی یحییٰ زکریا کا بیٹا۔ جیسا کہ یہی تاویل یہودیوں کے مطالبہ کے وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی کی اور اس تاویل سے جو ایک نبی کے منہ سے ثابت ہوئی صاف طور پر واضح ہوتا ہے کہ مسیح کا دنیا میں دوبارہ آنا بھی ایلیا کے دوبارہ آنے کی مانند ہے۔ اور ایک نظیر جو قائم ہو چکی ہے اس سے منہ پھیرنا اور ظاہری معنے کر کے کئی تناقضات کو اپنے عقیدہ میں جمع کرلینا یہ ان لوگوں کا کام ہے جن کو عقل اور فہم سے بہت ہی کم حصہ ملا ہے۔ پیشگوئیوں پر اکثرمجازات اور استعارات غالب ہوتے ہیں۔ اور اس سے زیادہ کوئی حماقت نہیں ہوگی کہ پیشگوئی کے کسی لفظ کو اس حالت میں بھی ظاہر پر حمل کیا جائے کہ جبکہ ظاہر پر حمل کرنے سے کئی تناقضات جمع ہو جاتے ہیں۔ اسی عادت سے تو یہود ہلاک ہوئے۔
اور مسیح کے بارے میں ایسی ہی ایک اور پیشگوئی تھی کہ وہ بادشاہ ہوگا اور کافروں سے لڑے گا۔ سو یہودیوں نے اس سے بھی ٹھوکر کھائی کیونکہ حضرت مسیح کو ظاہری بادشاہت نہیں ملی۔ اسی واسطے اب تک یہودی کہتے ہیں کہ جو مسیح کے حق میں پیشگوئیاں تھیں آج تک