شامل مثل کیا گیا۔ سنایا گیا درست تسلیم ہوا۔ عبدالحمید بقلم خود
گواہ نے بعد بیان کرنے کے عرض کی کہ چونکہ اس نے صاف صاف حالات بیان کر دئیے ہیں اس کو جان کا اندیشہ ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ وہ اپنی حفاظت میں اس کو رکھنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ گواہ کو اجازت ڈاکٹر صاحب کے پاس رہنے کی دی گئی۔ دستخط حاکم
نقل ؔ تتمہ بیان مشمولہ مثل اجلاسی کپتان ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب بہادر ڈپٹی کمشنر بہادر ضلع گورداسپور
مرجوعہ
فیصلہ
نمبر بستہ
نمبر مقدمہ
۱۵؍ اگست ۷ ۹ء
زیر تجویز
۳؍۳
سرکار دولتمدار مستغیث جرم ۱۰۷ ضابطہ فوجداری بنام مرزا غلام احمد سکنہ قادیاں مستغاث علیہ
تتمہ بیان عبدالحمید باقرار صالح
10/8/97
قادیاں سے جہلم لقمان کے پاس صرف ملنے ملاقات کے واسطے مظہر گیا تھا اور کوئی کام نہ تھا۔
کی صریح پیشگوئی سے انکار کر کے مکذبین میں داخل نہ ہو۔
اس بیان کی تفصیل یہ ہے کہ اس زمانہ میں خداتعالیٰ نے چودھویں صدی کے سر پر مجھے مبعوث فرما کر اس پیشگوئی کی معقولیت کو کھول دیا اور ظاہر فرما دیا کہ مسیح کا دوبارہ دنیا میں آنا اسی رنگ اور طریق سے مقدر تھا جیسا کہ ایلیا نبی کا دوبارہ دنیا میں آنا ملاکی نبی کی کتاب میں لکھا گیا تھا۔ کیونکہ صحیفہ ملاکی میں اس بات کا بہ تصریح ذکر تھا کہ وہ مسیح موعود جس کا یہودیوں کو انتظار تھا وہ دنیا میں نہیں آئے گا جب تک کہ ایلیا نبی دوبارہ دنیا میں نہ آلے۔ اگر ہمارے مخالفین میں سعادت اور حق جوئی کا مادہ ہوتا تو وہ ملاکی نبی کی اس پیشگوئی سے جس پر یہود اور نصاریٰ دونوں کا اتفاق ہے بہت فائدہ اٹھاتے۔ کیونکہ صحیفہ ملاکی کی ظاہر نص کے لحاظ سے ضرور کہنا پڑتا ہے کہ ایلیا اب تک دنیا میں واپس نہیں آیا۔ حالانکہ حضرت مسیح کو دنیا میں آئے ہوئے قریباًانیس سو برس کے ہوگیا۔ پس اگر جیسا کہ ملاکی کے ظاہر الفاظ سے نکلتا ہے جس پر علماء یہود آج تک بڑے زور سے جمے بیٹھے ہیں یہی صحیح ہے کہ ضرور مسیح سے پہلے ایلیا نبی کا بذاتہٖ
* سہو کتابت سے 10-8-97 لکھا گیا ہے درست 15-8-97 ہے ۔ ناشر