اس کی زیارت کرتے ہیں اور عام خیال ہے کہ وہ ایک شہزادہ نبی تھا جو اسلامی ملکوں کی طرف سے اسلام سے پہلے کشمیر میں آیا تھا اور اس شہزادہ کا نام غلطی سے بجائے یسوع کے کشمیر میں یوزآسف کر کے مشہور ہے جس کے معنے ہیں کہ یسوع غم ناک۔ اور جب پلاطوس کی بیوی کو فرشتہ نظر آیا اور اس نے اس کو دھمکایاؔ کہ اگر یسوع مارا گیا تو تمہاری تباہی ہوگی یہی اشارہ خداتعالیٰ کی طرف سے بچانے کے لئے تھا۔ ایسا دنیا میں کبھی نہیں ہوا کہ اس طرح پر کسی راستباز کی حمایت کے لئے فرشتہ ظاہر ہوا ہو اور پھر رؤیا میں فرشتہ کا ظاہر ہونا عبث اور لاحاصل گیا ہو اور جس کی سفارش کے لئے آیا ہو وہ ہلاک ہوگیا ہو۔ غرض یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ اس وقت کے یہودی اپنے ارادہ میں نامراد رہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام جس کوٹھے میں رکھے گئے تھے جو قبر کے نام سے مشہور تھا اور دراصل ایک بڑا وسیع کوٹھا تھا وہ اس سے تیسرے دن بخیر و عافیت باہر آگئے اور شاگردوں کو ملے اور ان کو مبارک باد دی کہ میں خدا کے فضل سے دنیوی زندگی کے ساتھ بدستور اب تک زندہ ہوں اور پھر ان کے ہاتھ سے لے کر روٹی اور کباب کھائے اور اپنے زخم ان کو دکھلائے اور چالیس دن تک ان کے ان زخموں کا اس مرہم کے ساتھ علاج ہوتا رہا جس کو قرابا دینوں میں مرہم عیسیٰ یا مرہم رُسُل یا مرہم حواریّین کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ یہ مرہم چوٹ وغیرہ کے زخموں کے لئے بہت مفید ہے اور قریباً طب کی ہزار کتاب میں اس مرہم کا ذکر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی چوٹوں کے لئے اس کو بنایا گیا تھا۔ وہ پرانی طب کی کتابیں عیسائیوں کی جو آج سے چودہ سو برس پہلے رومی زبان میں تصنیف ہو چکی تھیں ان میں اس مرہم کا ذکر ہے اور یہودیوں اور مجوسیوں کی طبابت کی کتابوں میں بھی یہ نسخہ مرہم عیسیٰ کا لکھا گیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مرہم الہامی ہے اور اس وقت جبکہ حضرت مسیح علیہ السلام کو صلیب پر کسی قدر زخم پہنچے تھے انہیں دنوں میں خداتعالیٰ نے بطور الہام یہ دوائیں ان پر ظاہر کی تھیں۔