نہیں رکھتے جس کے ارادہ کے بغیر ایک پتہ بھی گر نہیں سکتا۔ لہٰذا وہ اپنے ارادوں میں ہمیشہ ناکام اور شرمندہ رہتے ہیں اور ان کی بدی سے راستبازوں کو کوئی ضرر نہیں پہنچتا بلکہؔ خدا کے نشان ظاہر ہوتے ہیں اور خلق اللہ کی معرفت بڑھتی ہے وہ قوی اور قادر خدا اگرچہ ان آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتا مگر اپنے عجیب نشانوں سے اپنے تئیں ظاہر کر دیتا ہے۔ اور بداندیشوں کے حملے راستبازوں پر قدیم سے ہوتے چلے آئے ہیں۔ مجھ سے پہلے یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت بھی یہی ارادہ کیا کہ ناحق مجرم ٹھہرا کر سولی دلا دیں مگر خدا کی قدرت دیکھو کہ کس طرح اس نے اپنے اس مقبول کو بچالیا۔ اس نے پیلاطوس کے دل میں ڈال دیا کہ یہ شخص بے گناہ ہے اور فرشتہ نے خواب میں اس کی بیوی کو ایک رُعب ناک نظارہ میں ڈرایا کہ اس شخص کے مصلوب ہونے میں تمہاری تباہی ہے۔ پس وہ ڈر گئے اور اس نے اپنے خاوند کو اس بات پر مستعد کیا کہ کسی حیلہ سے مسیح کو یہودیوں کے بد ارادہ سے بچالے۔ پس اگرچہ وہ بظاہر یہودیوں کے آنسو پونچھنے کے لئے صلیب پر چڑھایا گیا لیکن وہ قدیم رسم کے موافق نہ تین دن صلیب پر رکھا گیا جو کسی کے مارنے کے لئے ضروری تھا اور نہ ہڈیاں توڑی گئیں بلکہ یہ کہہ کر بچا لیا گیا کہ ’’اس کی تو جان نکل گئی‘‘۔ اور ضرور تھا کہ ایسا ہی ہوتا تا خدا کا مقبول اور راستباز نبی جرائم پیشہ کی موت سے مر کر یعنی صلیب کے ذریعہ سے جان دے کر اس *** کا حصہ نہ لیوے جو روز ازل سے ان شریروں کے لئے مقرر ہے جن کے تمام علاقے خدا سے ٹوٹ جاتے ہیں اور درحقیقت جیسا کہ *** کا مفہوم ہے وہ خدا کے دشمن اور خدا ان کا دشمن ہو جاتا ہے۔ پس کیونکر وہ *** جس کا یہ ناپاک مفہوم ہے ایک برگزیدہ پر وارد ہو سکتی ہے؟ سو اس لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیبی موت سے بچائے گئے۔ اور جیسا کہ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے وہ کشمیر میں آکر فوت ہوئے اور اب تک نبی شہزادہ کے نام پر کشمیر میں ان کی قبر موجود ہے۔ اور لوگ بہت تعظیم سے