مسلمانوں کے لئے یہ ایک بند اور روک بنائی تھی تا آئندہ کوئی شخص ان کا مقابلہ نہ کرے۔ اور اس بات سے ڈر جایا کریں کہ ان کے الفاظ سخت متصور ہو کر قانون کے نیچے لائے جائیں گے۔ گویا اس طور سے پادری صاحبوں کی مراد پوری ہوگی کہ وہ جس طور سے چاہیں گالیاں دیں۔ مگر دوسرا شخص نرمی کے ساتھ بھی ان کے مقابل پر سر نہ اٹھاوے۔ پسؔ نہایت ضروری تھا کہ اپنی گورنمنٹ عالیہ کو حقیقت حال سے اطلاع دی جائے۔ ہم یقیناً جانتے ہیں کہ ہماری یہ گورنمنٹ مذہبی امور میں ہرگز پادریوں کی رعایت نہیں کرے گی اور اس بات پر اطلاع پاکر کہ مباحثات میں ہمیشہ زیادتی پادریوں کی طرف سے ہوتی رہی ہے ایسے نوٹس کو جو دھوکہ کھانے کی وجہ سے لکھا گیا ہے محض فضول اور منسوخ کی طرح سمجھے گی۔ اب ہم کچہری کی کارروائی کو سلسلہ وار بیان کرتے ہیں اور وہ یہ ہے:۔ بھی احتمال رکھتے ہیں بلکہ زیادہ تر احتمال یہی ہوتا ہے کیونکہ دنیا میں جھوٹ زیادہ ہے۔ پھر کیونکر دلی یقین سے اُن قصوں کو واقعات صحیحہ مان لیا جائے۔ لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات صرف قصوں کے رنگ میں نہیں ہیں بلکہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کر کے خود ان نشانوں کو پالیتے ہیں۔ لہٰذا معائنہ اور مشاہدہ کی برکت سے ہم حق الیقین تک پہنچ جاتے ہیں۔ سو اس کامل اور مقدس نبی کی کس قدر شان بزرگ ہے جس کی نبوت ہمیشہ طالبوں کو تازہ ثبوت دکھلاتی رہتی ہے۔ اور ہم متواتر نشانوں کی برکت سے اس کمال سے مراتب عالیہ تک پہنچ جاتے ہیں کہ گویا خداتعالیٰ کو ہم آنکھوں سے دیکھ لیتے ہیں۔ پس مذہب اسے کہتے ہیں اور سچا نبی اس کا نام ہے جس کی سچائی کی ہمیشہ تازہ بہار نظر آئے۔ محض قصوں پر جن میں ہزاروں طرح کی کمی بیشی کا امکان ہے بھروسہ کرلینا عقلمندوں کا کام نہیں ہے۔ دنیا میں صدہا لوگ خدا بنائے