پادری عماد الدین
اس شخص کی تصنیفات جو ۸۷۴اء سے پیشتر شائع ہو چکی ہیں اس قدر دل آزار کلمات سے مملو ہیں کہ خود عیسائیوں نے اسے ملامت کی۔ ہم ان کا اقتباس یہاں نہیں کرتے اور صرف وہ رائیں درج کرتے ہیں جو ہندوؤں اور عیسائیوں نے اس کی کتاب ہدایۃ المسلمین پر ظاہر کیں۔
ہندو پرکاش امرتسر ۱۸۷۴ ء و آفتاب پنجاب لاہور۔ ’’کیا پادری عماد الدین کی تصنیفات ۔۔۔ کچھ اس کتاب سے شورش انگیزی میں کمتر ہیں کہ جس نے بمبئی کے مسلمانوں اور پارسیوں کے اتفاق و محبت کو عداوت سے مبدّل کر دیا اور دونوں کو ہلاکت کا منہ دکھایا۔۔۔ پادری صاحب کی تصانیف۔۔۔ مسلمانوں کا انگریزی گورنمنٹ سے دل پھاڑنے کی علّت غائی پر تصنیف کی گئی ہیں‘‘۔
شمس الاخبار لکھنؤ باہتمام پادری کریون صاحب ۱۵؍ اکتوبر ۱۸۷۵ ء ’’ نیاز نامہ۔۔۔عماد الدین کی تصنیفات کی مانند نفرتی نہیں کہ جس میں گالیاں لکھی ہوئی ہیں اور اگر ۱۸۵۷ء کی مانند پھر غدر ہوا تو اسی شخص کی بدزبانیوں اور بے ہودہ گوئیوں سے ہوگا‘‘۔
نبی معصوم مطبوعہ امریکن مشن پریس لودھیانہ ۱۸۸۴ ء
۱۶
وہ عشق حرام جو محمد صاحب نے مریم نامی مصری لونڈی کے ساتھ کیا۔
ہندوؤں اور آریوں کی گالیاں
پاداش اسلام مصنفہ اندرمن مراد آبادی ۱۸۶۶ ء
۹
(رذیلہ کار محمد۔ محمد احمق۔ ستمگار و بدکار)
۱۱
(محمد) مثل مار برخود پیچید۔۔۔۔۔۔ فی الفور دم خرپیمود۔
۱۲،۱۳
محمد تزویرے بکاربرد۔ جمیع امور پر فتورش۔ امام شافعی گپ مے زند۔