۸۷
یہاں صحابہ کبار کو من وجہہ قاتل۔ ظالم۔ زناکار۔ دغاباز۔ چور۔ بدکاروں کی جماعت جسے دل کی پاکیزگی سے کچھ تعلق نہیں۔ قرار دیا ہے۔
۸۸
اپنے شاگردوں (صحابہ) کی دلیری کے واسطے تلوار کو بہشت کی کنجی ٹھہرایا کہ جس سے لازم آتا ہے کہ جتنے گنہگار و بدذات کہ بے توبہ کئے مارے گئے (شہید صحابہ) وے۔۔۔ بہشت میں داخل ہوں۔
۱۵۳ؔ
اس لئے ضرور پڑا کہ انجیل مقدس کو منسوخ کرے کیونکہ اس میں فاعل ایسے کام کا (مراد رسول اکرم) دوزخی ہے۔
۱۵۴
کچھ تعجب نہیں کہ اُس (رسول اکرم) نے انجیل مقدس کو منسوخ کیا ہوکیونکہ تمام بندہ دنیا جو کہ شہوت پرست ہیں ایسے ہی کرتے ہیں لیکن ان سبھوں پر افسوس کس لئے کہ ان کا یہی انجام ہے کہ وے بالاجماع خدا کے غضب میں پڑیں گے یعنی اس جھیل (دوزخ) میں جو کہ آگ اور گندھک سے جلتی ہے:۔
رسالہ مسیح الدجّال مصنفہ ماسٹر رام چند عیسائی ۱۸۷۳ ء
اس کتاب میں ہمارے رسول اکرم کو دجال بنانے کی کوشش کی گئی ہے:-
سیرت المسیح والحمد ۱
صفحہ
مصنفہ پادری ٹھاکر داس مشنری امریکن مشن ۱۸۸۲ ء
سرورق
مسیح کو بلعال کے ساتھ کونسی موافقت ہے (یہاں ہمارے رسول اکرم کو بلعال
یعنی جو ایک خبیث اور شریر روح ہے۔ قرار دیا ہے)۔
۶
محمد بذاتہ گنہگار۔۔۔ محمد عملاً گنہگار تھا۔
۱۱
محمد گفتار رفتار میں ثابت قدم نہیں۔ ابھی کچھ پھر کچھ۔
۱۲
حرص دنیاوی بانی اسلام میں یہ صورت رکھتی ہے کہ دین کے بھیس میں دنیا
صحیح المحمد ہے سہو کتابت سے الحمد لکھا گیا ہے۔ ناشر