سچوں کی دعائیں قبول کرتا ہے۔ دیانند اور لیکھرام اس کا چیلہ اس جہان سے گذر گئے مگر دہریت اور بخل اور تعصب کی بدبو باقی چھوڑ گئے اور میں چاہتا ہوں کہ وہ بدبو دور ہو اس لئے میں اس آریہ سے بھی قسم سے فیصلہ چاہتا ہوں جیسا کہ پہلے آریہ سے درخواست کی گئی ہے اور میں یقیناً جانتا ہوں بلکہ آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں کہ خدا راستی کا حامی ہے اور راستی کے مخالف کا دشمن ہے سچی بات کی گواہی دینی ایک ایماندار کیلئے مشکل نہیں مگر آریوں کیلئے آجکل بہت مشکل ہے۔ غرض اگر کوئی مکذب ہو یہ آریہ ہو یا وہ آریہ تو قسم کھا کر مجھ سے فیصلہ کرلے میں جانتا ہوں کہ وہ خدا جو ہمارا خدا ہے ایک کھا جانے والی آگ ہے وہ جھوٹے کو کبھی نہیں چھوڑے گا۔ لیکن اگر سچا ہوگا تو اس کا کوئی نقصان نہیں۔ اب دیکھو ثبوت اسے کہتے ہیں کہ دین کے دشمنوں کے حوالہ سے اس بابرکت پیشگوئی کی سچائی ظاہر کی گئی ہے دنیا میں اس سے زیادہ اور کیا ثبوت ہوگا کہ ایسے دین کے دشمن جیسا کہ آجکل آریہ ہیں خدا کی پیشگوئیوں کی سچائی کے گواہ ہوں کیا ایسی گواہیاں اور ایسے موجودہ نشان عیسائیوں کے پاس بھی ہیں؟ اگر ہیں تو ایک آدھ بطور نظیر کے پیش تو کریں پس یقیناًسمجھو کہ سچا خدا وہی خدا ہے جس کی طرف قرآن شریف بلاتا ہے اس کے سو اسب انسان پرستیاں یا سنگ پرستیاں ہیں۔ بیشک مسیح ابن مریم نے بھی اس چشمہ سے پانی پیا ہے جس سے ہم پیتے ہیں اور بلاشبہ اس نے بھی اس پھل میں سے کھایا ہے جس سے ہم کھاتے ہیں لیکن ان باتوں کو خدائی سے کیا تعلق اورابنیت سے کیا علاقہ ہے عیسائیوں نے مسیح کو ایک مقید خدا بنانے کا ذریعہ بھی خوب نکالا یعنی *** اگر *** نہ ہو تو خدائی بیکار اور ابنیت لغو۔ لیکن باتفاق تمام اہل لغت ملعون ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ خدا سے دل برگشتہ ہو جائے۔ بے ایمان ہو جائے۔ مرتد ہوجائے۔ خدا کا دشمن ہو جائے۔ سیاہؔ دل ہو جائے۔ کتوں اور سوروں اور بندروں سے بدتر ہو جائے جیسا کہ توریت بھی گواہی دے رہی ہے پس کیا یہ مفہوم بھی ایک سیکنڈ کیلئے مسیح کے حق میں تجویز کر سکتے ہیں کیا اس پر ایسا زمانہ آیا تھا کہ وہ خدا کا پیارا نہیں رہا تھا۔ کیا اس پر وہ وقت آیا تھا کہ اس کا دل خدا سے برگشتہ ہوگیا تھا۔ کیا کبھی اس نے بے ایمانی کا ارادہ کیا تھا۔ کیا کبھی ایسا ہوا کہ وہ خدا کا دشمن اور خدا اس کا دشمن