اس قسم کی ہمدردی کسی مسلمان سے کی ہو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ سچی محبت سے خدا کے بندوں کی خیر خواہی کرنا بجز سچے مسلمان کے کسی سے ممکن ہی نہیں ہاں ریاکاری کے ساتھ ممکن ہو تو ہو مگر دل کے پاک انشراح سے ٹھیک ٹھیک اصول پر قدم مار کر دوسروں کو یہ باتیں حاصل نہیں ہو سکتیں مسلمان بالطبع مدارات کو چاہتے ہیں اس لئے کھانے پینے میں بھی ہندوؤں سے پرہیز نہیں کرتے مگر ہندوؤں میں نفرت بھی ایک بخل کی نشانی ہے۔ ہاں کسی نافرمان پر خدا کا غضب ہونا خواہ وہ مسلمان ہو یا عیسائی یا ہندو یہ اور بات ہے ہمدردی کے اصول سے اس کو کچھ تعلق نہیں۔
اور میں نے جو ان دونوں آریوں کے واقعات پیش کرنے کے وقت قسم کھائی ہے یہ اس لئے کہ میں باور نہیں کرتا کہ وہ کم سے کم اس قدر حق پوشی کیلئے طیار نہ ہو جائیں کہ میری نسبت یہ الزام دیں کہ اس نے اصل واقعات میں کمی بیشی کر دی ہے اور نیز اس لئے قسم کھائی ہے کہ آج کل آریوں کو اسلام کے ساتھ ایک خاص بُغض ہے۔
اور میں دوبارہ اللہ جلّ شانہٗ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ایک ذرہ ان واقعات میں تفاوت نہیں خدا موجود ہے اور جھوٹے کے جھوٹ کو خوب جانتا ہے اگر میں نے جھوٹ بولا ہے یا میں نے ان قصوں کو ایک ذرہ کم و بیش کر دیا ہے تو نہایت ضروری ہے کہ ایسا ظن کرنے والا خدا کی قسم کے ساتھ اشتہار دیدے کہ میں جانتا ہوں کہ اس شخص نے جھوٹ بولا ہے یا اس نے کم و بیش کر دیا ہے اور اگر نہیں کیا تو ایک سال تک اس تکذیب کا وبال مجھ پر پڑے اور ابھی میں بھی قسم کھا چکا ہوں پس اگر میں جھوٹا ہوں گا یا میں نے ان قصوں کو کم و بیش کیا ہوگا تو اس دروغ گوئی اور افترا کی سزا مجھے بھگتنی پڑے گی لیکن اگر میں نے پوری دیانت سے لکھا ہے اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ میں نے پوری دیانت سے لکھا ہے تب مکذب کو خدا بے سزا نہیں چھوڑے گا یقیناًسمجھو کہ خدا ہے اور وہ ہمیشہ سچائی کی مدد کرتا ہے اگر کوئی امتحان کیلئے اٹھے تو عین مراد ہے کیونکہ امتحان سے خدا ہم میں اور مخالفوں میں فیصلہ کر دے گا ہمارے مخالف مولویوں کے لئے بھی یہ موقع ہے کہ ان لوگوں کو اٹھاویں جیسا کہ آتھم کے اٹھانے کیلئے کوشش کی تھی۔ فیصلہ ہو جانا ہر ایک کیلئے مبارک ہے اس سے دنیا کو پتہ لگ جائے گا کہ خدا موجود ہے اور