دل ؔ خوں ہیں غم کے مارے کشتی لگا کنارے
یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
اس دل میں تیرا گھر ہے تیری طرف نظر ہے
تجھ سے میں ہوں منور میرا تو تو قمر ہے
تجھ پر مرا توکل در پر تیرے یہ سر ہے
یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
جب تجھ سے دل لگایا سو سو ہے غم اٹھایا
تن خاک میں ملایا جاں پر وبال آیا
پر شکر اے خدایا جاں کھو کے تجھ کو پایا
یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
دیکھا ہے تیرا منہ جب چمکا ہے ہم پہ کوکب
مقصود مل گیا سب ہے جام اب لبالب
تیرے کرم سے یارب میرا بر آیا مطلب
یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
احباب سارے آئے تونے یہ دن دکھائے
تیرے کرم نے پیارے یہ مہرباں بلائے
یہ دن چڑھا مبارک مقصود جسمیں پائے
یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
مہماں جو کر کے الفت آئے بصد محبت
دل کو ہوئی ہے فرحت اور جاں کو میری راحت
پر دل کو پہنچے غم جب یاد آئے وقت رخصت
یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
دنیا بھی اک سرا ہے بچھڑیگا جو ملا ہے
گر سو برس رہا ہے آخر کو پھر جدا ہے
شکوہ کی کچھ نہیں جا یہ گھر ہی بے بقا ہے
یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
اے دوستو پیارو عقبیٰ کو مت بسارو
کچھ زادِ راہ لے لو کچھ کام میں گذارو
دنیا ہے جائے فانی دل سے اسے اتارو
یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
جی مت لگاؤ اس سے دل کو چھڑاؤ اس سے
رغبت ہٹاؤ اس سے بس دور جاؤ اس سے
یارو یہ اژدہا ہے جاں کو بچاؤ اس سے
یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
قرآں کتاب رحماں سکھائے راہِ عرفاں
جو اسکے پڑھنے والے ان پر خدا کے فیضاں
ان پر خدا کی رحمت جو اس پہ لائے ایماں
یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ