سبؔ جہاں چھان چکے ساری دکانیں دیکھیں مئے عرفان کا یہی ایک ہی شیشہ نکلا کس سے اس نور کی ممکن ہو جہاں میں تشبیہ وہ تو ہر بات میں ہر وصف میں یکتا نکلا پہلے سمجھے تھے کہ موسیٰ کا عصا ہے فرقاں پھر جو سوچا تو ہر ایک لفظ مسیحا نکلا ہے قصور اپنا ہی اندھوں کا وگرنہ وہ نور ایسا چمکا ہے کہ صد نیر بیضا نکلا زندگی ایسوں کی کیا خاک ہے اس دنیا میں جن کا اس نور کے ہوتے بھی دل اعمیٰ نکلا جلنے سے آگے ہی یہ لوگ تو جل جاتے ہیں جن کی ہر بات فقط جھوٹ کا پتلا نکلا محمود کی آمین 3 نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم حمد و ثنا اسی کو جو ذات جاودانی ہمسر نہیں ہے اس کا کوئی نہ کوئی ثانی باقی وہی ہمیشہ غیر اس کے سب ہیں فانی غیروں سے دل لگانا جھوٹی ہے سب کہانی سب غیر ہیں وہی ہے اک دل کا یارجانی دل میں میرے یہی ہیسُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ ہے پاک پاک قدرت عظمت ہے اسکی عظمت لرزاں ہیں اہل قربت کروبیوں پہ ہیبت ہے عام اس کی رحمت کیونکر ہو شکر نعمت ہم سب ہیں اسکی صنعت اس سے کرو محبت غیروں سے کرنا الفت کب چاہے اسکی غیرت یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ جو کچھ ہمیں ہے راحت سب اسکی جودومنت اس سے ہے دل کی بیعت دل میں ہے اسکی عظمت بہتر ہے اسکی طاعت طاعت میں ہے سعادت یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ سب کا وہی سہارا رحمت ہے آشکارا ہم کو وہی پیارا دلبر وہی ہمارا اس بن نہیں گذارا غیر اس کے جھوٹ سارا یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ