اسؔ ملک کے رہنے والے وحشیوں سے بھی بدتر ہوتے۔ یہ اچھا ہوا کہ بہ سبب احسن تدبیر گورنمنٹ برطانیہ کے اس ملک کے اسباب تنعم و آرام طلبی کچھ مختصر کئے گئے تا لوگ فنون اور علوم کی طرف متوجہ ہوں اور روحانی ترقیات کا بھی دروازہ کھلے اور نفسانی جذبات کے وسائل کم ہو جائیں۔ سو یہ سب کچھ عہد سعادت مہد ملکہ معظمہ قیصرہ ہند میں ظہور میں آیا۔ میں خوب جانتا ہوں کہ مصیبت اور محتاجگی بھی انسان کی انسانیت کیلئے ایک کیمیا ہے بشرطیکہ انتہا تک نہ پہنچے اور تھوڑے دن ہو۔ سو ہمارا ملک اس کیمیا کا بھی محتاج تھا۔ میرا اس میں ذاتی تجربہ ہے کہ ہم نے اس کیمیا سے بہت فائدہ اٹھایا ہے اور بہت سے روحانی جواہرات ہم کو اس ذریعہ سے ملے ہیں۔ میں پنجاب کے ایک ایسے خاندان میں سے ہوں جو سلاطین مغلیہ کے عہد میں ایک ریاست کی صورت میں چلا آتا تھا اور بہت سے دیہات زمینداری ہمارے بزرگوں کے پاس تھے اور اختیارات حکومت بھی تھے۔ پھر سکھوں کے عروج سے کچھ پہلے یعنی جبکہ شاہان مغلیہ کے انتظام ملک داری میں بہت ضعف آگیا تھا۔ اور اس طرف طوائف الملوک کی طرح خودمختار ریاستیں پیدا ہوگئی تھیں۔ میرے پڑدادا صاحب میرزا گل محمد بھی طوائف الملوک میں سے تھے اور اپنی ریاست میں من کل الوجوہ خود مختار رئیس تھے۔ پھر جب سکھوں کا غلبہ ہوا تو صرف اسی۰۸ گاؤں ان کے ہاتھ میں رہ گئے۔ اور پھر بہت جلد اسی۸۰ کے عدد کا صفر بھی اڑگیا۔ اور پھر شاید آٹھ یا سات گاؤں باقی رہے۔ رفتہ رفتہ سرکار انگریزی کے وقت میں تو بالکل خالی ہاتھ ہوگئے۔ چنانچہ اوائل عملداری اس سلطنت میں صرف پانچ گاؤں کے مالک کہلاتے تھے اور میرے والد میرزا غلام مرتضیٰ صاحب دربار گورنری میں کرسی نشین بھی تھے اور سرکار انگریزی کے ایسے خیر خواہ اور دل کے بہادر تھے کہ مفسدہ ۱۸۵۷ء میں پچاس گھوڑے اپنی گرہ سے خرید کر اور پچاس جوان جنگجو بہم پہنچا کر اپنی حیثیت سے زیادہ اس گورنمنٹ عالیہ