باتؔ ہے کہ اکثر لوگ عرفانی روشنی کی تلاش میں لگ گئے ہیں۔ ہاں تلاش کی دُھن میں غلطیوں میں بھی پڑ رہے ہیں۔ اور غیر معبود کو حقیقی معبود کی جگہ بھی دیتے ہیں۔ مگر کچھ شک نہیں کہ ایک حرکت پیدا ہوگئی ہے۔ اور باتوں کی حقیقت اور اصلیت اور جڑ تک پہنچنا اور سطحی خیالات تک رکے نہ رہنا قابل تعریف خلق سمجھا گیا ہے جس سے آئندہ کی امیدیں مضبوط ہوگئی ہیں۔ پس اس میں کیا شک ہے کہ یہ بھی بادشاہ وقت کا ایک پرتوہ ہے اور کچھ شک نہیں کہ یہ گورنمنٹ ہندوستان میں داخل ہوتے ہی ایک روحانی سرگرمی اور حق کی تلاش کا اثر ساتھ لائی ہے اور بلاشبہ یہ اس ہمدردی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے جو ہماری ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کے دل میں برٹش انڈیا کی رعیت کی نسبت مرکوز ہے۔ اور اگرچہ میں ان احسانوں کا بھی بدرجہ غایت قدر کرتا ہوں جو جسمانی طورپر جناب ملکہ معظمہ کی توجہات سے شامل حال مسلمانان ہند ہیں۔ لیکن ایک بڑا حصہ عنایات حضرت قیصرہ ہند کا یہی ہے کہ انکے ایام دولت میں ہندوستان کی بہت سی وحشیانہ حالتیں روبہ اصلاح ہوگئی ہیں اور ہر ایک شخص نے روحانی ترقیات کا بڑا موقعہ پایا ہے۔ ہم صریح دیکھتے ہیں کہ گویا زمانہ ایک سچی اور پاک صلاحیت کے نزدیک آتا جاتا ہے اور دلوں کو حقیقت شناسی کی طرف توجہ پیدا ہوتی جاتی ہے۔ مذہبی امور میں بوجہ تبادل خیالات کے ہر ایک حق کی تلاش کرنیوالے کو آگے قدم رکھنے کی جرأت ہوگئی ہے۔ اور وہ سچا اور اکیلا خدا جو بہتوں کی نظر سے پوشیدہ تھا اب اپنی تجلّیات کے دکھلانے کیلئے صریح ارادہ کرتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ میرے خیال میں یہ بھی گزرتا ہے کہ اس سے پہلے اس ملک کی فارغ البالی اور دولتمندی اسکی روحانی ترقی کی بہت مانع تھی اور ہرایک مال اور دولت رکھنے والا عیاشی اور آرام پسندی کی طرف اعتدال سے زیادہ جھک گیا تھا۔ اگر ہندوستان کی وہی صورت رہتی تو آج شاید