کے رو سے۔ سوم براہین احمدیہ کے اس الہام کے رو سے جو اس واقعہ سے بارہ برس پہلے ہو چکا تھا اب سوچو کہ اس سے بڑھ کر اگر کسی پیشگوئی میں صفائی ہوگی تو اور کیا ہوگی۔ اگر کوئی سچائی کو چھوڑ کر باتیں بناوے تو ہم اس کا منہ بند نہیں کر سکتے۔ لیکن آتھم کی نسبت جو الہام کے الفاظ ہیں وہ ایسے صاف ہیں کہ ایک حق کے طالب کو بجز ان کے ماننے کے کچھ بن نہیں پڑتا۔ اور براہین احمدیہ کا الہام جو آتھم صاحب کی نسبت ہے جو بارہ برس پہلے اس پیشگوئی سے تقریباً تمام اسلامی دنیا میں شائع ہو چکا ہے اس پر غور کرنے والے تو سجدہ میں گریں گے کہؔ کیسا عالم الغیب خدا ہے جس نے پہلے سے ان تمام آئندہ واقعات اور جھگڑوں کی خبر دے دی۔
چونکہ اکثر اہل دنیا کو آج کل اس برترہستی پر ایمان نہیں ہے اس لئے ان کے خیالات بہ نسبت اس کے کہ نیک ظنی کی طرف جائیں بدظنی کی طرف زیادہ جاتے ہیں۔ یہ بالکل غلطی ہے کہ گورنمنٹ نے لیکھرام کے مقدمہ میں سُستی کی ہے اور آتھم کے مقدمہ میں اگر وہ قتل ہو جاتا تو سُستی نہ کرتی۔ ہم کہتے ہیں کہ بیشک یہ گورنمنٹ کا فرض ہے کہ ہندو اور مسلمانوں کو دونوں آنکھوں کی طرح برابر دیکھے۔ کسی کی رعایت نہ کرے جیسا کہ فی الواقعہ یہ عادل گورنمنٹ ایسا ہی کر رہی ہے۔ لیکن میں پوچھتا ہوں کہ کیا کوئی گورنمنٹ خدا سے بھی لڑ سکتی ہے۔ بیشک گورنمنٹ کا فرض ہے کہ کسی نابکار خونی کو پکڑے اس کو پھانسی دے اور بدتر سے بدتر سزا کے ساتھ اس کو تنبیہ کرے تا دوسرے عبرت پکڑیں اور ملک میں امن قائم رہے۔ اگر آتھم قتل ہو جاتا تو بیشک وہ شخص پھانسی ملتا جو آتھم کا قاتل ہوتا۔ اسی طرح جب ثابت ہوگا کہ لیکھرام کا فلاں شخص قاتل ہے اور وہ گرفتار ہوگا تو ایسا ہی وہ بھی پھانسی ملے گا۔ گورنمنٹ کا اس میں کیا قصور ہے؟ اور کونسی سُستی؟ کس قاتل کو آریہ صاحب کس ثبوت کے ساتھ گرفتار کرانا چاہتے ہیں جس کے پکڑنے میں گورنمنٹ متأمّل ہے؟ لیکن گورنمنٹ خدا کی پیشگوئیوں میں دخل نہیں دے سکتی۔ جس قدر گورنمنٹ اس کی طرف توجہ کرے گی اسی قدر ان پیشگوئیوں کو آسمانی اور بے لوث اور پاک پائے گی۔ آخر یہ گورنمنٹ اہل کتاب ہے
اور اس خدا سے منکر نہیں ہے جو پوشیدہ بھیدوں کو جانتا ہے اور آنے والے زمانہ کی ایسے