کہ آتھم نے شرط سے فائدہ اٹھایا ہے اور اس کی موت میں ہم نے کچھ تاخیر ڈال دی تو میں نے آتھم صاحب کو چار ہزار روپیہ کے انعام پر قسم کھانے کیلئے بلایا کہ اگر درپردہ اسلام کی طرف رجوع نہیں کیا یا اسلامی ہیبت ان کے دل پر طاری نہیں ہوئی تو چاہئے کہ ؔ میدان میں آکر قسم کھائیں۔ یا اگر قسم نہیں تو نالش کر کے اپنے اس خوف کے وجوہ کو جس کا ان کو اقرار ہے بپایہ اثبات پہنچاویں۔ مگر انہوں نے نہ قسم کھائی نہ نالش کی` باوجودیکہ ان کو صاف اقرار تھا کہ میں میعاد پیشگوئی کے اندر ڈرتا رہا۔ مگر اسلامی ہیبت سے نہیں بلکہ تعلیم یافتہ سانپ اور حملوں وغیرہ سے۔ اور چونکہ وہ خوف کو چھپا نہ سکے اس لئے یہ بہانے بنائے اور ثبوت کچھ نہ دیا اور اسی وجہ سے ان کو قسم کی طرف بلایا گیا تھا۔ تا اگر وہ سچے ہیں تو قسم کھالیں مگر باوجود چار ہزار روپیہ نقد دینے کے قسم نہ کھائی۔ نہ نالش سے اپنے ان بہتانوں کو ثابت کیا۔ یہاں تک کہ قبر میں داخل ہوگئے۔ میرے الہام میں یہ بھی تھا کہ اگر آتھم سچی گواہی نہیں دے گا اور نہ قسم کھائے گا تب بھی اصرار کے بعد جلد مرے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور آتھم صاحب میرے آخری اشتہار سے سات مہینے کے اندر مرگئے۔ اور عجیب تر یہ کہ ان کے اس تمام قصہ کی بارہ برس قبل از وقوع براہین احمدیہ کے الہامات میں خبر موجود ہے۔ دیکھو صفحہ ۲۴۱ براہین احمدیہ۔ پھر ایسی صاف اور روشن پیشگوئی کی نسبت یہ گمان کرنا کہ وہ پوری نہیں ہوئی کس قدر انصاف کا خون کرنا ہے۔ کیا آتھم صاحب کی اس پیشگوئی میں کوئی شرط نہیں تھی؟ اور اگر تھی تو کیا آتھم صاحب نے اپنے اقوال اور افعال سے اس شرط کا پورا ہونا ثابت نہیں کیا؟ کیا آتھم صاحب میرے اس الزام کو قبر میں ساتھ نہیں لے گئے کہ انہوں نے خوف کا اقرار کر کے پھر یہ ثابت کر کے نہ دکھلایا کہ وہ خوف کسی تعلیم یافتہ سانپ وغیرہ حملوں کی وجہ سے تھا نہ اسلامی پیشگوئی کے رعب کی وجہ سے۔ وہ ہمیشہ مباحثات کیا کرتے تھے مگر پیشگوئی کے بعد ایسے چپ ہوئے کہ چپ ہونے کی حالت میں ہی گذرگئے۔ پس پیشگوئی تین طور سے پوری ہوئی اول اپنی شرط کی رو سے کہ شرط پر عمل کرنے سے اس کا فائدہ آتھم کو دیا گیا۔ دوم اخفائے شہادت کے بعد جو وعدہ موت تھا اس وعدہ