خدؔ مت میں پیش کیا جاتا ہے۔ تمام واقعات اور شہادتیں ہم نے صحیح صحیح لکھ دئیے ہیں اور کتابیں جن سے لکھے گئے ہیں مدت سے شائع شدہ ہیں۔ ہر ایک اہل الرائے معزز اگر اصل کتابوں کو دیکھنا چاہے تو ہم سے طلب کر سکتا ہے اس لئے ہم معزز اہل الرائے صاحبوں کی خدمت میں ملتمس ہیں کہ وہ اللہ جَلّ شانہٗ اور اس کے رسول کی عظمت اور عزت کیلئے اس فتویٰ کو جو روئداد موجودہ سے پیدا ہوتا ہے کہ کاغذات منسلکہ رسالہ ھٰذا پر لکھ کر اور اپنی اور دوسروں کی گواہی ان پر ثبت فرما کر گم گشتہ لوگوں پر احسان فرماویں اور ایسی تحریریں بذریعہ خط ہمارے پاس بھیج دیں کہ وہ سب مجموعہ کے طور پر چھاپ دی جائیں گی اور میں جانتا ہوں کہ اس بارے میں معزز اہل الرائے کی شہادتیں بڑے جوش سے ہر ایک طرف سے آئیں گی اور سچے ایماندار اس گواہی کو جس میں اسلام کی شان ظاہر ہوتی ہے کبھی پوشیدہ نہیں کریں گے۔ مگر کمینہ طبع ذلیل خیال دنیاپرست۔ سو ایسے لوگ یاد رکھیں کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو سچی گواہی کو چھپائے گا اس کا دل خدا کا گناہ گار ہے۔ جہاں تک میں دیکھتا ہوں سرکاری عہدہ داروں کو بھی کوئی قانون ایسی سچی گواہی سے نہیں روکتا جس میں جائز طور پر سچائی کی مدد ہو۔ انسان میں سچائی کی حمایت بڑی عمدہ صفت ہے۔ ہم کیسی ہی دنیا کی عزت اور وجاہت پاویں خدا کے پنجہ سے باہر نہیں جا سکتے۔ میرا تجربہ ہے کہ اس زبردست حاکم کا لحاظ نہ رکھنا اور سچی گواہی کو چھپانا اپنے لئے ذلت کی مار خریدنا ہے۔ جو شخص ایسی صاف صاف روئداد کو دیکھ کر پھر سچی گواہی سے پہلو تہی کرے گا اس کی نسبت ہمیں کم سے کم یہ اعتقاد رکھنا پڑے گا کہ یہ شخص خدا اور دین اور رسول مقبول کی حمایت عزت سے لاپرواہ ہے۔ لیکن اگر وہ سچی گواہی دے گا تو ہم احکم الحاکمینکے آگے اس کے دین و دنیا کی مرادوں کیلئے دعا کریں گے اور ہم کیا مانگتے ہیں؟ صرف سچی گواہی مبادا دل آں فرو مایہ شاد کہ از بہر دنیا دہد دین بباد میرا ارادہ ہے کہ ان باتوں کو انگریزی میں ترجمہ کرا کر یورپ کے اہل النظر لوگوں کے سامنے بھی پیش کروں کیونکہ ان میں فطرتاً سچائی کی حمایت کے لئے بڑی جرأت پائی جاتی ہے۔ بشرطیکہ ایک سچائی کا فی الواقع سچا ہونا سمجھ لیں۔ مگر اول میں اپنے قومی بھائیوں کے سامنے یہ اپیل پیش کرتا ہوں اور ان کو اس مردانہ شہادت کے ادا کرنے کا موقعہ دیتا ہوں جس سے دنیا کے اخیر تک عزت کے ساتھ نیک مردوں کی فہرست میں ان کا نام درج رہے گا۔ الراقم میرزا غلام احمد قادیانی ۔ ۱۲ ؍مئی ۱۸۹۷ء