تھی جو وہ کئی برس تک ہمارے سید و مولیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کی بے ادبی میں چلاتا رہا۔ پس وہی زبان کی تیزی چھری کی شکل پر متمثل ہو کر اس کے پیٹ میں گھس گئی۔ جب تک آسمان پر چھری نہ چلے زمین پر ہرگز چل نہیں سکتی۔ لوگ سمجھتے ہوں گے کہ لیکھرام اب مارا گیا۔ لیکن میں تو اس وقت سے مقتول سمجھتا تھا جب میرے پاس ایک فرشتہ خونی شکل میں آیا اور اس نے پوچھا کہ ’’لیکھرام کہاں ہے‘‘ چنانچہ یہ سب مضمون ان پیشگوئیوں میں پڑھو گے۔ جو ذیل میں لکھی جاتی ہے۔
اول (اشتہار بیس۰۲ فروری ۱۸۸۶ء میں پنڈت لیکھرام کی نسبت صرف اسی قدر صفحہ ۴ میں پیشگوئی ہے) کہ لیکھرام صاحب پشاوری کی قضا و قدر وغیرہ کے متعلق غالباً اس رسالہ میں بقید وقت و تاریخ کچھ تحریر ہوگا۔ اگر کسی صاحب پر کوئی ایسی پیشگوئی شاق گذرے تو وہ مجاز ہیں کہ ؔ یکم مارچ ۱۸۸۶ء سے یا اس تاریخ سے جو کسی اخبار میں پہلی دفعہ یہ مضمون شائع ہو ٹھیک ٹھیک دو ہفتہ کے اندر اپنی دستخطی تحریر سے مجھ کو اطلاع دیں تا وہ پیشگوئی جس کے ظہور سے وہ ڈرتے ہیں اندراج رسالہ سے علیحدہ رکھی جائے اور موجب دل آزاری سمجھ کر کسی کو اس پر مطلع نہ کیا جائے۔ اور کسی کو اس کے وقت ظہور سے خبر نہ دی جائے۔ پھر بعد اس کے پنڈت لیکھرام کا کارڈ پہنچا کہ میں اجازت دیتا ہوں کہ میری موت کی نسبت پیشگوئی کی جائے مگر میعاد مقرر ہونی چاہئے۔ پھر بعد اس کے مفصلہ ذیل الہامات ہوئے۔
دوم۔ الہام مندرجہ رسالہ کرامات الصادقین مطبوعہ صفر ۱۳۱۱ ہجری وَعدنی رَبّی واستجاب دُعائی فی رجل مُفسدٍ عدو اللّٰہ وَ رسُولہ المسمّی لیکھرام الفشاوری و اخبرنی انہ من الھالکین۔ انہ کان یسبّ نبی اللّٰہ و یتکلم فی شانہ بکلمات خبیثۃ۔ فدعوت علیہ۔ فبشرنی ربّی بموتہ فی ستّۃ سنۃٍ ان فی ذٰلک لاٰیۃ لِلطّالبین۔ یعنی خدا تعالیٰ نے ایک دشمن اللہ اور رسول کے بارے میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو گالیاں نکالتا ہے اور ناپاک کلمے زبان پر لاتا ہے جس کا نام لیکھرام ہے مجھے وعدہ دیا اور میری دعا سنی اور جب میں نے اس پر بددعا کی تو خدا نے مجھے بشارت دی کہ وہ چھ۶سال کے اندر ہلاک ہو جائے گا۔ یہ ان کے لئے نشان ہے جو