نقشہ پر مطلع ہو جائیں جو لیکھرام کے مرنے سے چار برس پہلے اس کی موت کیلئے کھینچا گیا تھا اور با ایں ہمہ ہریک شہر میں یہ کتابیں مل سکتی ہیں اور کئی برسوں سے پنجاب اور ہندوستان میں شائع ہو رہی ہیں جس کا جی چاہے اصل کتابوں میں دیکھ لے۔ اس جگہ ایک ضروری بات جو یاد رکھنے کے لائق ہے اور جو ہماری اس کتاب کی روح اور علت غائی ہے وہ یہ ہے کہ یہ پیشگوئی ایک بڑے مقصد کے ظاہر کرنے کیلئے کی گئی تھی۔ یعنی اس بات کا ثبوت دینے کے لئے کہ آریہ مذہب بالکل باطل اور وید خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔ اور ہمارے سید و مولیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم خدا تعالیٰ کے پاک رسول اور برگزیدہ نبی اور اسلام خدا تعالیٰ کی طرف سے سچا مذہب ہے۔ اور یہی بار بار لکھا گیا تھا اور اسی مقصد کے پورا کرؔ نے کے لئے دعائیں کی گئی تھیں۔ سو اس پیشگوئی کو نری ایک پیشگوئی خیال نہیں کرنا چاہئیے بلکہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہندوؤں اور مسلمانوں میں ایک آسمانی فیصلہ ہے۔ کچھ مدت سے ہندوؤں میں تیزی بڑھ گئی تھی۔ خاص کر کے یہ لیکھرام تو گویا اس بات پر اعتقاد نہیں رکھتا تھا کہ خدا بھی ہے۔ سو خدا نے ان لوگوں کو چمکتا ہوا نمونہ دکھلایا۔ چاہئیے کہ ہر یک شخص اس سے عبرت پکڑے جو شخص خدا کے مقدس نبیوں کی اہانت میں زبان کھولتا ہے کبھی اس کا انجام اچھا نہیں ہو سکتا۔ لیکھرام اپنی موت سے آریوں کو ہمیشہ کی عبرت کا سبق دے گیا ہے۔ چاہئیے کہ ان شرارتوں سے دست بردار ہوں جو دیانند نے ملک میں پھیلائیں اور نرمی اور لطف اور سچی محبت اور تعظیم کے ساتھ اسلام سے برتاؤ کریں۔ آئندہ انہیں اختیار ہے۔ بعض احمق جو مسلمان کہلا کر آریوں کی طرف جھکے تھے اب ان کی توبہ کا وقت ہے انہیں دیکھنا چاہئیے کہ اسلام کا خدا کیسا غالب ہے؟ آریوں کو اس پیشگوئی کے وقت بذریعہ چھپے ہوئے اشتہاروں کے اطلاع دی گئی تھی کہ اگر تمہارا دین سچا ہے اور اسلام باطل تو اس کی یہی نشانی ہے کہ اس پیشگوئی کے اثر سے اپنے وکیل لیکھرام کو بچالو اور جہاں تک ممکن ہے اس کے لئے دعائیں کرو اور دعاؤں کے لئے مہلت بہت تھی لیکن خدا کے قہری ارادہ کو وہ لوگ بدل نہ سکے۔ یقیناً سمجھنا چاہئییکہ جو چھری لیکھرام پر چلائی گئی‘ یہ وہی چھری