اورؔ مواعید کو عزت کی نظر سے نہیں دیکھتے۔ کیا ان کے پاس حدیث یا قرآن شریف سے کوئی نظیر موجود ہے کہ ایسے خبیث طبع مفتری کو خدا تعالیٰ نہ پکڑے جو اس پرافترا پر افترا باندھے اور جھوٹے الہام بناکر اپنے تئیں خدا کا نہایت ہی پیارا ظاہر کرے اور محض اپنے دل سے شیطانی باتیں تراش کر اس کو عمداً خدا کی وحی قرار دیوے اور کہے کہ خدا کا حکم ہے کہ لوگ میری پیروی کریں اور کہے کہ خدا مجھے اپنے الہام میں فرماتا ہے کہ تو اس زمانہ میں تمام مومنوں کا سردار ہے حالانکہ اس کو کبھی الہام نہ ہوا ہو اور نہ کبھی خدا نے اس کو مومنوں کا سردار ٹھہرایا ہو اور کہے کہ مجھے خدا مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ توہی مسیح موعود ہے جس کو میں کسر صلیب کے لئے بھیجتا ہوں۔ حالانکہ خدا نے کوئی ایسا حکم اس کو نہیں دیا اور نہ اس کا نام عیسیٰ رکھا اور کہے کہ خدا ئے تعالیٰ مجھے مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ مجھ سے تو ایسا ہے جیسا کہ میری توحید۔ تیرا مقام قرب مجھ سے وہ ہے جس سے لوگ بے خبر ہیں۔ حالانکہ خدا اس کو مفتری جانتا ہے۔ اس پر *** بھیجتا ہے اور مردودوں اور مخذولوں کے ساتھ اس کا حصہ قرار دیتا ہے۔ پھر کیا یہی خدائے تعالیٰ کی عادت ہے کہ ایسے کذّاب اور بیباک مفتری کو جلد نہ پکڑے۔ یہاں تک کہ اس افترا پر بیس ۲۰ برس سے زیادہ عرصہ گزر جائے۔ کون اس کو قبول کرسکتا ہے کہ وہ پاک ذات جس کے غضب کی آگ وہ صاعقہ ہے کہ ہمیشہ جھوٹے ملہموں کو بہت جلد کھاتی رہی ہے اس لئے عرصہ تک اس جھوٹے کو چھوڑ دے جس کی نظیر دنیا کے صفحہ میں مل ہی نہیں سکتی۔ اللہجلّ شانہٗ فرماتا ہے۔3۱؂ اس سے زیادہ تر ظالم اور کون ہے جو خدا تعالیٰ پر جھوٹ باندھے۔ بیشک مفتری خدا تعالیٰ کی *** کے نیچے ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ پر افترا کرنے والا جلد مارا جاتا ہے۔ سو ایک تقویٰ شعار آدمی کیلئے یہ کافی تھا کہ خدا نے مجھے مفتریوں کی طرح ہلاک نہیں کیا بلکہ میرے ظاہر اور باطن اور میرے جسم اور میری روح پر وہ احسان کئے جن کو میں شمار نہیں کرسکتا۔ میں جوان تھا جب خدا کی وحی اور الہام کا دعویٰ کیااور اب میں بوڑھا ہوگیااور ابتداء دعویٰ پر بیس ۲۰ برس سے بھی زیادہ عرصہ گزر گیا۔ بہت سے میرے دوست اور عزیز جو مجھ سے چھوٹے تھے فوت ہوگئے اور مجھے اس نے عمر دراز بخشی اور ہریک مشکل میں میرا متکفّل اور متو ّ لی رہا۔ پس کیا ان لوگوں کے یہی نشان ہوا کرتے ہیں کہ جو خدا تعالیٰ پر افترا باندھتے