بھی خرچ کریں کہ ہم میں سے کسی منتخب کے روبرو ایسے بیجا الزامات کی وجہ ثبوت ہمارے مذکورہ بالا مخالفوں سے دریافت فرماویں تو زیرک طبع حکام کو فی الفور معلوم ہو جائے گا کہ کس قدر یہ لوگ بے ثبوت بہتانوں سے سرکار انگریزی کی وفادار رعایا اہل اسلام پر ظلم کر رہے ہیں۔ ہم نہایت ادب سے گورنمنٹ عالیہ کی جناب میں یہ عاجزانہ التماس کرتے ہیں کہ ہماری محسن گورنمنٹ ان احسانوں کو یاد کر کے جواب تک ہم پر کئے ہیں ایک یہ بھی ہماری جانوں اور آبروؤں اور ہمارے ٹوٹے ہوئے دلوں پر احسان کرے کہ اس مضمون کا ایک قانون پاس کر دیوے یا کوئی سرکلر جاری کرے کہ آئندہ جو مناظرات اور مجادلات اور مباحثات مذہبی امور میں ہوں ان کی نسبت ہریک قوم مسلمانوں اور عیسائیوں اور آریوں وغیرہ میں سے دو امر کے ضرور پابند رہیں۔ (۱) اول یہ کہ ایسا اعتراض جو خود معترض کے ہی الہامی کتاب یا کتابوں پر جن کے الہامی ہونے پر وہ ایمان رکھتا ہے وارد ہو سکتا ہو یعنی وہ امر جو بنا اعتراض کی ہے ان کتابوں میں بھی پایا جاتا ہو جن پر معترض کا ایمان ہے ایسے اعتراض سے چاہئے کہ ہریک ایسا معترض پرہیز کرے۔ (۲) دوم اگر بعض کتابوں کے نام بذریعہ چھپے ہوئے اشتہار کے کسی فریق کی طرف سے اس غرض سے شائع ہوگئے ہوں کہ درحقیقت وہی کتابیں ان کی مسلم اور مقبول ہیں تو چاہئے کہ کوئی معترض ان کتابوں سے باہر نہ جائے اور ہریک اعتراض جو اس مذہب پر کرنا ہو انہیں کتابوں کے حوالہ سے کرے اور ہر گز کسی ایسی کتاب کا نامؔ نہ لیوے جس کے مسلّم اور مقبول ہونے کے بارے میں اشتہار میں ذکر نہیں۔ اور اگر اس قانون کی خلاف ورزی کرے تو بلاتامل اس سزا کا مستوجب ہو جو دفعہ ۲۹۸ تعزیرات ہند میں مندرج ہے۔ یہ التماس ہے جس کا پاس ہونا ہم بذریعہ کسی ایکٹ یا سرکلر کے گورنمنٹ عالیہ سے چاہتے ہیں اور ہماری زیرک گورنمنٹ اس بات کو سمجھتی ہے کہ اس قانون کے پاس کرنے میں کسی خاص قوم کی رعایت نہیں بلکہ ہریک قوم پر اس کا اثر مساوی ہے اور اس قانون کے پاس کرنے میں بے شمار برکتیں ہیں جن سے عامہ خلائق کے لئے امن اور عافیت کی راہیں کھلتی ہیں اور صدہا بیہودہ نزاعوں اور جھگڑوں کی صف لپیٹی جاتی ہے اور اخیر نتیجہ صلح کاری اور ان شراتوں کا دور ہو جانا ہے جو فتنوں