یا پنڈت شرمندہ ہوا اور چپکے سے کہا کہ آپ اندر چل کر مجھ سے یہ گفتگو کریں بازار میں لوگ سن کر ہنسی کرتے ہیں اب ظاہر ہے کہ جن لوگوں کا اپنا ہی یہ حال ہے کہ ایسے عقائد اور اعمال کی نسبت اپنا ہی کانشنس ان کا ان کے عقیدہ کو دھکے دیتا ہے اور قبول نہیں کرتا تو پھر وہ غیروں کو کیا وعظ کریں گے۔ اس لئے مسلمانوں کو نہایت ہی گورنمنٹ کا شکر گذار ہونا چاہئے کہ گورنمنٹ کے اس قانون کا وہی اکیلے فائدہ اٹھا رہے ہیں بیچارے پادری صدہا روپیہ خرچ کر کے ایک ہندو کو قابو میں لاتے ہیں اور وہ آخر بعد آزمائش مسلمانوں کی طرف آ جاتا ہے اور یا صرف پیٹ کا بندہ ہو کر محض دنیوی لالچ سے انہیں میں گذارہ کرتا ہے لیکن ہمیں اپنے دلآزار ہمسایوں مخالفوں سے ایک اور شکایت ہے اگر ہم اس شکایت کے رفع کے لئے اپنی محسن اور مہربان گورنمنٹ کو اس طرف توجہ نہ دلاویں تو کس کو دلاویں اور وہ یہ ہے کہ ہمارے مذہبی مخالف صرف بے اصل روایات اور بے بنیاد قصوں پر بھروسہ کر کے جو ہماری کتب مسلّمہ اور مقبولہ کی رو سے ہرگز ثابت نہیں ہیں بلکہ منافقوں کے مفتریات ہیں ہمارا دل دکھاتے ہیں اورؔ ایسی باتوں سے ہمارے سید و مولیٰ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی ہتک کرتے ہیں اور گالیوں تک نوبت پہنچاتے ہیں جن کا ہماری معتبر کتابوں میں نام و نشان نہیں۔ اس سے زیادہ ہمارے دل دکھانے کا اور کیا موجب ہوگا کہ چند بے بنیاد افتراؤں کو پیش کر کے ہمارے اس سید و مولیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم پر زنا اور بدکاری کا الزام لگانا چاہتے ہیں جس کو ہم اپنی پوری تحقیق کی رو سے سید المعصو مین اور ان تمام پاکوں کا سردار سمجھتے ہیں جو عورت کے پیٹ سے نکلے اور اس کو خاتم الانبیاء جانتے ہیں کیونکہ اس پر تمام نبوتیں اور تمام پاکیزگیاں اور تمام کمالات ختم ہو گئے۔ اس صورت میں صرف یہی ظلم نہیں کہ ناحق اور بے وجہ ہمارا دل دکھایا جاتا ہے اور اس انصاف پسند گورنمنٹ کے ملک میں ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ و سلم کو گالیاں دی جاتی ہیں اور بڑے بڑے پیرایوں میں ہمارے اس مقدس مذہب کی توہین کی جاتی ہے۔ بلکہ یہ ظلم بھی ہوتا ہے کہ ایک حق اور راست راست امر کو محض یاوہ گوئی کے ذخیرہ سے مشتبہ اور کمزور کرنے کے لئے کوشش کی جاتی ہے اگر گورنمنٹ کے بعض اعلیٰ درجہ کے حکام دو تین روز اس بات پر