اللہ جل شانہ قرآن شریف میں یہ فرماتا ہے۔
یعنی اے خدا ہمیں وہ استقامت کی راہ بتلا جو راہ ان لوگوں کی ہے جن پر تیرا
انعام ہوا ہے۔ اس جگہ انعام سے مراد الہام اور کشف وغیرہ آسمانی علوم ہیں جو انسان کو براہ راست ملتے ہیں۔ ایسا ہی ایک دوسری جگہ فرماتا ہے۔
یعنی جو لوگ خدا پر ایمان لا کر پوری پوری
استقامت اختیار کرتے ہیں۔ ان پر خدائے تعالیٰ کے فرشتے اترتے ہیں۔ اور یہ الہام ان کو کرتے ہیں کہ تم کچھ خوف اور غم نہ کرو۔ تمہارے لئے وہ بہشت ہے جس کے بارے میں تمہیں وعدہ دیا گیا
ہے۔ سو اس آیت میں بھی صاف لفظوں میں فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ کے نیک بندے غم اور خوف کے وقت خدا ؔ سے الہام پاتے ہیں اور فرشتے اتر کر ان کی تسلی کرتے ہیں اور پھر ایک اور آیت میں
فرمایا ہے۔
یعنی خدا کے دوستوں کو الہام اور خدا کے مکالمہ کے ذریعہ سے اس دنیا میں خوشخبری ملتی ہے اور آئندہ زندگی میں بھی ملے گی۔
الہام سے کیا مراد ہے؟
لیکن اس جگہ یاد
رہے کہ الہام کے لفظ سے اس جگہ یہ مراد نہیں ہے کہ سوچ اور