جس پر کسی نوع کا یقین کیا گیا ہے کوئی درمیانی واسطہ نہ ہو۔ مثلاً جب ہم قوت شامہ کے ذریعہ سے ایک خوشبو یا بدبو کو معلوم کرتے ہیں اور یا ہم قوت ذائقہ کے ذریعہ سے شیریں یا نمکین پر اطلاع پاتے ہیں یا قوت حا ّ سہ کے ذریعہ سے گرم یا سرد کو معلوم کرتے ہیں تو یہ تمام معلومات ہمارے عین الیقین کی قسم میں داخل ہیں۔ مگر عالم ثانی کے بارے میں ہمارا علم الٰہیات تب عین الیقین کی حد تک پہنچتا ہے کہ جب خود بلاواسطہ ہم الہام پاویں خدا کی آواز کو اپنے کانوں سے سنیں اور خدا کے صاف اور صحیح کشفوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ ہم بے شک کامل معرفت کے حاصل کرنے کے لئے بلا واسطہ الہام کے محتاج ہیں اور اس کامل معرفت کی ہم اپنے دل میں بھوک اور پیاس بھی پاتے ہیں۔ اگر خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے پہلے سے اس معرفت کا سامان میسر نہیں کیا تو یہ پیاس اور بھوک ہمیں کیوں لگا دی ہے۔ کیا ہم اس زندگی میں جو ہماری آخرت کے ذخیرہ کے لئے یہی ایک پیمانہ ہے اس بات پر راضی ہو سکتے ہیں کہ ہم اس سچے اور کامل اور قادر اور زندہ خدا پر صرف قصوں اور کہانیوں کے رنگ میں ایمان لاویں یا محض عقلی معرفت پر کفایت کریں۔ جو اب تک ناقص اور ناتمام معرفت ہے۔ کیا خدا کے سچے عاشقوں اور حقیقی دلدادوں کا دل نہیں چاہتا کہ اس محبوب کے کلام سے لذت حاصل کریں؟ کیا جنہوں نے خدا کے لئے تمام دنیا کو برباد کیا، دل کو دیا، جان کو دیا‘ وہ اس بات پر راضی ہو سکتے ہیں کہ صرف ایک دھندلی سی روشنی میں کھڑے رہ کر مرتے رہیں اور اس آفتاب صداقت کا مُنہ نہ دیکھیں کیا یہ سچ نہیں ہے کہ اُس زندہ خدا کا اناالموجود کہنا وہ معرفت کامرتبہ عطا کرتا ہے کہ اگر دنیا کے تمام فلاسفروں کی خود تراشیدہ کتابیں ایک طرف رکھیں اور ایک طرف اناالموجود خدا کا کہنا تو اس کے مقابل وہ تمام دفتر ہیچ ہیں جو فلاسفر کہلا کر اندھے رہے۔ وہ ہمیں کیا سکھائیں گے۔ غرض اگر خدا تعالیٰ نے حق کے طالبوں کو کامل معرفت دینے کا ارادہ فرمایا ہے تو ضرور اس نے اپنے مکالمہ اور مخاطبہ کا طریق کھلا رکھا ہے۔ اس بارے میں