کامل شریعت کا فعل جو اس کی زندگی میں انسان کے دل پر ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ اس کو وحشیانہ حالت سے انسان بناوے اور
پھر انسان سے بااخلاق انسان بناوے اور پھر با اخلاق انسان سے باخدا انسان بناوے اور نیز اس زندگی میں عملی شریعت کا ایک فعل یہ ہے کہ شریعت حقہ پر قائم ہو جانے سے ایسے شخص کا بنی نوع
پر یہ اثر ہوتا ہے کہ وہ درجہ بدرجہ ان کے حقوق کو پہچانتا ہے اور عدل اور احسان اور ہمدردی کی قوتوں کو اپنے اپنے محل پر استعمال کرتا ہے اور جو کچھ خدا نے اس کو علم اور معرفت اور مال
اور آسائش میں سے حصہ دیا ہے سب لوگوں کو حسب مراتب ان نعمتوں میں شریک کر دیتا ہے۔ وہ تمام بنی نوع پر سورج کی طرح اپنی تمام روشنی ڈالتا ہے اور چاند کی طرح حضرت اعلیٰ سے نور
پاکر وہ نور دوسروں تک پہنچاتا ہے۔ وہ دن کی طرح روشن ہو کر نیکی اور بھلائی کی راہیں لوگوں کو دکھاتا ہے۔ وہ رات کی طرح ہر ایک ضعیف کی پردہ پوشی کرتا ہے اور تھکوں اور ماندوں کو آرام
پہنچاتا ہے۔ وہ آسمان کی طرح ہر ایک حاجت مند کو اپنے سایہ کے نیچے جگہ دیتا ہے اور وقتوں پر اپنے فیض کی بارشیں برساتا ہے وہ زمین کی طرح کمال انکسار سے ہر ایک آدمی کی آسائش کے لئے
بطور فرش کے ہو جاتا ہے اور سب کو اپنی کنار عاطفت میں لے لیتا اور طرح طرح کے روحانی میوے ان کے لئے پیش کرتا ہے۔ سو یہی کامل شریعت کا اثر ہے کہ کامل شریعت پر قائم ہونے والا حق
اللہ اور حق العباد کو کمال کے نقطہ تک پہنچا دیتا ہے۔ خدا میں وہ محو ہو جاتا ہے اور مخلوق کا سچا خادم بن جاتا ہے۔ یہ تو عملی شریعت کا اس زندگی میں اس پر اثر ہے مگر زندگی کے بعد جو اثر
ہے وہ یہ ہے کہ خدا کا روحانی اتصال اس روز کھلے کھلے دیدار کے طور پر اس کو نظر آئے گا اور خلق اللہ کی خدمت جو اس نے خدا کی محبت میں ہو کر کی جس کا محرک ایمان اور اعمال صالحہ
کی خواہش تھی وہ بہشت کے درختوں اور نہروں کی طرح متمثل ہو کر دکھائی دے گی۔ اس میں خدائے تعالیٰ کا فرمان یہ ہے۔