ہوجاتے ہیں اور دماغ میں جب کسی قسم کا تشنج ہو جائے یا ورم پیدا ہو۔ یا خون یا کوئی اور مادہ ٹھہر جائے اور کسی سدّہ تام
یا غیر تام کو پیدا کرے تو غشی یا مرگی یا سکتہ معاً لاحق حال ہو جاتا ہے۔ پس ہمارا قدیم کا تجربہ ہمیں یقینی طور پر سکھلاتا ہے کہ ہماری روح بغیر تعلق جسم کے بالکل نکمی ہے۔ سو یہ بات بالکل
باطل ہے کہ ہم ایسا خیال کریں کہ کسی وقت میں ہماری مجرد روح جس کے ساتھ جسم نہیں ہے کسی خوشحالی کو پا سکتی ہے۔ اگر ہم قصہ کے طور پر اس کو قبول کریں تو کریں لیکن معقولی طور پر
اس کے ساتھ کوئی دلیل نہیں۔ ہم بالکل سمجھ نہیں سکتے کہ وہ ہماری روح جو جسم کے ادنیٰ ادنیٰ خلل کے وقت بیکار ہو کر بیٹھ جاتی ہے وہ اس روز کیونکر کامل حالت پر رہے گی جبکہ بالکل جسم
کے تعلقات سے محروم کی جائے گی۔ کیا ہر روز ہمیں تجربہ نہیں سمجھاتا کہ روح کی صحت کے لئے جسم کی صحت ضروری ہے۔ جب ایک شخص ہم میں سے پیرفرتوت ہو جاتا ہے تو ساتھ ہی اس
کی روح بھی بوڑھی ہو جاتی ہے۔ اس کا تمام علمی سرمایہ بڑھاپے کا چور چرا کر لے جاتا ہے جیسا کہ اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے۔
یعنی انسان بڈھا ہوکر ایسی حالت تک پہنچ جاتا ہے کہ پڑھ پڑھا کر
پھرجاہل بن جاتا ہے۔ پس ہمارا یہ مشاہدہ اس بات پر کافی دلیل ہے کہ روح بغیر جسم کے کچھ چیز نہیں۔ پھر یہ خیال بھی انسان کو حقیقی سچائی کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ اگر روح بغیر جسم کے
کچھ چیز ہوتی تو خدائے تعالیٰ کا یہ کام لغو ٹھہرتا کہ اس کو خواہ نخواہ جسم فانی سے پیوند دے دیتا۔ اور پھر یہ بھی سوچنے کے لائق ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو غیر متناہی ترقیات کے لئے پیدا
کیا ہے۔ پس جس حالت میں انسان اس مختصر زندگی کی ترقیات کو بغیر رفاقت جسم کے حاصل نہیں کر سکا تو کیونکر امید رکھیں کہ ان نامتناہی ترقیات کو جو ناپیدا کنار ہیں بغیر رفاقت جسم کے
خودبخود حاصل کرلے گا۔
سو ان تمام دلائل سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ روح کے افعال کاملہ صادرہونے کیلئے اسلامی