اول یہ کہ دنیا جس کا نام عالم کسب اور نشاء اولٰی ہے۔ اسی دنیا میں انسان اکتساب نیکی کا یا بدی کا کرتا ہے اور اگرچہ عالم
بعث میں نیکوں کے واسطے ترقیات ہیں مگر وہ بعض خدا کے فضل سے ہیں۔ انسان کے کسب کو ان میں دخل نہیں۔
(۲) اوردوسرے عالم کا نام برزخ ہے۔ اصل میں لفظ برزخ لغت عرب میں اس
چیز کو کہتے ہیں کہ جو دوچیزوں کے درمیان واقع ہو۔ سو چونکہ یہ زمانہ عالم بعث اور عالم نشاء اولیٰ میں واقع ہے۔ اس لئے اس کا نام برزخ ہے۔ لیکن یہ لفظ قدیم سے اور جب سے کہ دنیا کی بناء
پڑی عالم درمیانی پر بولا گیا ہے۔ اس لئے اس لفظ میں عالم درمیانی کے وجود پر ایک عظیم الشان شہادت مخفی ہے۔ ہم اپنی کتاب۱ منن الرحمٰنمیں ثابت کر چکے ہیں کہ عربی کے الفاظ وہ الفاظ ہیں جو
خدا کے منہ سے نکلے ہیں اور دنیا میں فقط یہی ایک زبان ہے جو خدائے قدوس کی زبان اور قدیم اور تمام علوم کا سرچشمہ اور تمام زبانوں کی ماں اور خدا کی وحی کا پہلا اور پچھلا تخت گاہ ہے۔ خدا
کی وحی کا پہلا تخت گاہ اس لئے کہ تمام عربی خدا کا کلام تھا جو قدیم سے خدا کے ساتھ تھا۔ پھر وہی کلام دنیا میں اترا اور دنیا نے اس سے اپنی بولیاں بنائیں۔ اور آخری تخت گاہ خدا کا اس لئے لغت
عربی ٹھہری کہ آخری کتاب خدا تعالیٰ کی جو قرآن شریف ہے۔ عربی میں نازل ہوئی۔ سوبرؔ زخ عربی لفظ ہے جو مرکب ہے زَخَّ او ر بَرّ سے۔ جس کے معنے یہ ہیں کہ طریق کسب اعمال ختم ہوگیا
اور ایک مخفی حالت میں پڑ گیا۔ برزخ کی حالت وہ حالت ہے کہ جب یہ ناپائیدار ترکیب انسانی تفرق پذیر ہو جاتی ہے اور روح الگ اور جسم الگ ہو جاتا ہے۔ اور جیسا کہ دیکھا گیا ہے کہ جسم کسی
گڑھے میں ڈال دیا جاتاہے اور روح بھی ایک قسم کے گڑھے میں پڑ جاتی ہے۔ جس پر لفظ زخّ کا دلالت کرتا ہے کیونکہ وہ افعال کسب خیر یا شر پر قادر نہیں ہو سکتی کہ جو جسم کے تعلقات سے اس
سے صادر ہو سکتے تھے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ ہماری روح کی عمدہ صحت جسم پر موقوف ہے۔ دماغ کے ایک خاص حصہ پر چوٹ لگنے سے حافظہ جاتا رہتا ہے اور دوسرے حصہ پر آفت پہنچنے سے
قوت متفکرہ رخصت ہوتی ہے اور تمام ہوش و حواس رخصت