طرح اس مرتبہ کے آدمی کے تمام تعلقات سفلی کالعدم ہو جاتے ہیں۔ اس کا اپنے خدا سے ایسا گہرا تعلقؔ ہو جاتا ہے اور
وہ مخلوق سے دور چلا جاتا اور خدا کے مکالمات اور مخاطبات سے شرف پاتا ہے۔ اس مرتبہ کے حاصل کرنے کے لئے اب بھی دروازے کھلے ہیں جیسے کہ پہلے کھلے ہوئے تھے اور اب بھی خدا
کا فضل یہ نعمت ڈھونڈنے والوں کو دیتا ہے جیسا کہ پہلے دیتا تھا۔ مگر یہ راہ محض زبان کی فضولیوں کے ساتھ حاصل نہیں ہوتی اور فقط بے حقیقت باتوں اور لافوں سے یہ دروازہ نہیں کھلتا۔ چاہنے
والے بہت ہیں مگر پانے والے کم۔ اس کا کیا سبب ہے۔ یہی کہ یہ مرتبہ سچی سرگرمی، سچی جانفشانی پر موقوف ہے۔ باتیں قیامت تک کیا کرو۔ کیا ہو سکتا ہے۔ صدق سے اس آگ پر قدم رکھنا جس کے
خوف سے اور لوگ بھاگتے ہیں۔ اس راہ کی پہلی شرط ہے۔ اگر عملی سرگرمی نہیں تو لاف زنی ہیچ ہے۔ اس بارے میں اللہ جلّ شانُہٗ فرماتا ہے۔۱
یعنی اگر میرے بندے میری نسبت سوال کریں
کہ وہ کہاں ہے؟ تو انکو کہہ کہ وہ تم سے بہت ہی قریب ہے۔ میں دعا کرنیوالے کی دعا سنتا ہوں۔ پس چاہئے کہ و ہ دعاؤں سے میرا وصل ڈھونڈیں اور مجھ پر ایمان لاویں تا کامیاب ہوں۔
دوسرا
سوال
موت کے بعد انسان کی کیا حالت ہوتی ہے؟
سواس سوال کے جواب میں یہ گذارش ہے کہ موت کے بعد جو کچھ انسان کی حالت ہوتی ہے درحقیقت وہ کوئی نئی حالت نہیں ہوتی بلکہ وہی
دنیا کی زندگی کی حالتیں زیادہ صفائی سے کھل جاتی ہیں۔ جو کچھ انسان کے عقائد اور اعمال کی کیفیت صالحہ یاغیر صالحہ ہوتی ہے۔ وہ اس