اور زبان ہو جاتا ہے جس کے ساتھ وہ بولتا ہے۔ اور ہاتھ ہو جاتا ہے جس کے ساتھ وہ حملہ کرتا ہے اور کان ہو جاتا ہے جس کے ساتھ وہ سنتا ہے اور پیر ہو جاتا ہے جس کے ساتھ وہ چلتا ہے۔ اسی درجہ کی طرف اشارہ ہے جو خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ یہ اس کا ہاتھ خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوں پر ہے۔ اور ایسا ہی فرماتا ہے۔ یعنی جو تو نے چلایا تو نے نہیں بلکہ خدا نے چلایا۔ غرض اس درجہ پر خدا تعالیٰ کے ساتھ کمال اتحاد ہو جاتا ہے۔ اور خدا تعالیٰ کی پاک مرضی روح کے رگ و ریشہ میں سرایت کر جاتی ہے۔ اور اخلاقی طاقتیں جو کمزور تھیں اس درجہ میں محکم پہاڑوں کی طرح نظر آتی ہیں۔ عقل اور فراست نہایت لطافت پر آ جاتی ہے۔ یہ معنے اس آیت کے ہیں جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اس مرتبہ میں محبت اور عشق کی نہریں ایسے طور سے جوش مارتی ہیں جو خدا کیلئے مرنا اور خدا کے لئے ہزاروں دکھ اٹھانا اور بے آبرو ہونا ایسا آسان ہو جاتا ہے کہ گویا ایک ہلکا سا تنکا توڑنا ہے۔ خدا تعالیٰ کی طرف کھینچا چلا جاتا ہے اور نہیں جانتا کہ کون کھینچ رہا ہے۔ ایک غیبی ہاتھ اس کو اٹھائے پھرتا ہے اور خدا کی مرضیوں کو پورا کرنا اس کی زندگی کا اصل الاصول ٹھہر جاتا ہے۔ اس مرتبہ میں خدا بہت ہی قریب دکھائی دیتا ہے جیسا کہ اُس نے فرمایاہے ۔ یعنی ہم اس سے اس کی رگ جان سے بھی زیادہ نزدیک ہیں۔ ایسی حالت میں اس مرتبہ کا آدمی ایسا ہوتا ہے کہ جس طرح پھل پختہ ہوکر خودبخود درخت پر سے گر جاتا ہے۔ اسی