قانون قدرت کی رو سے اور نہ کانشنس کی رو سے۱۔ صرف قصہ اور کہانی کے رنگ میں ہوتا ہے اور جیسا کہ قرآن شریف
نے عالم آخرت میں ایمان کے پاک درختوں کو انگور اور انار اور عمدہ عمدہ میووں سے مشابہت دی ہے اور بیان فرمایا ہے کہ اس روز وہ ان میووں کی صورت میں متمثل ہوں گے اور دکھائی دیں گے۔
ایسا ہی بے ایمانی کے خبیث درخت کا نام عالم آخرت میں زقوم رکھا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے:
یعنی تم بتلاؤ کہ بہشت کے باغ اچھے ہیں یا زقوم کا درخت۔ جو ظالموں کے لئے ایک بلا ہے۔ وہ ایک
درخت ہے جو جہنم کی جڑھ میں سے نکلتا ہے یعنی تکبر اور خودبینی سے پیدا ہوتا ہے۔ یہی دوزخ کی جڑھ ہے اس کا شگوفہ ایسا ہے جیسا کہ شیطان کا سر۔ شیطان کے معنے ہیں ہلاک ہونے والا۔ یہ
لفظ شیطسے نکلا ہے۔ پس حاصل کلام یہ ہے کہ اس کا کھانا ہلاک ہونا ہے۔ اور پھر فرمایا کہ زقوم کا درخت ان دوزخیوں کا کھانا ہے جو عمداً گناہ کو اختیار کرلیتے ہیں۔ وہ کھانا ایسا ہے جیسا کہ تانبا
گلا ہوا کھولتے ہوئے پانی کی طرؔ ح پیٹ میں جوش مارنے والا۔ پھر دوزخی کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ اس درخت کو چکھ ، ُ تو عزّ ت والا اور بزرگ ہے۔ یہ کلام نہایت غضب کا ہے۔ اس کا
ماحصل یہ ہے کہ اگر تو تکبر نہ کرتا اور اپنی بزرگی اور عزّ ت کا پاس کر کے حق سے منہ نہ پھیرتا تو آج یہ تلخیاں تجھے اٹھانی نہ پڑتیں۔ یہ آیت اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ دراصل
یہ لفظ زقوم کا ذق اور ام سے مرکب ہے اور ام ۔3 ۔ کا ملخص ہے۔ جس میں ایک حرف پہلے کا اور ایک حرف آخر کا موجود ہے اور کثرت استعمال نے