یعنی وہ ایمانی کلمہ جو ہرؔ ایک افراط تفریط اور نقص اور خلل اور کذب اور ہزل سے پاک اور من کل الوجوہ کامل ہو۔ اس
درخت کے ساتھ مشابہ ہے جو ہر ایک عیب سے پاک ہو۔ جس کی جڑھ زمین میں قائم اور شاخیں آسمان میں ہوں اور اپنے پھل کو ہمیشہ دیتا ہو۔ اور کوئی وقت اس پر نہیں آتا کہ اس کی شاخوں میں پھل نہ
ہوں۔ اس بیان میں خدائے تعالیٰ نے ایمانی کلمہ کو ہمیشہ پھل دار درخت سے مشابہت دے کر تین علامتیں اس کی بیان فرمائیں۔
(۱) اول یہ کہ جڑھ اس کی جو اصل مفہوم سے مراد ہے انسان کے
دل کی زمین میں ثابت ہو یعنی انسانی فطرت اور انسانی کانشنس نے اس کی حقانیت اور اصلیت کو قبول کرلیا ہو۔
(۲) دوسری علامت یہ کہ اس کلمہ کی شاخیں آسمان میں ہوں یعنی معقولیت اپنے
ساتھ رکھتا ہو اور آسمانی قانون قدرت جو خدا کا فعل ہے اس فعل کے مطابق ہو۔ مطلب یہ کہ اس کی صحت اور اصلیت کے دلائل قانون قدرت سے مستنبط ہو سکتے ہوں اور نیز یہ کہ وہ دلائل ایسے
اعلیٰ ہوں کہ گویا آسمان میں ہیں جن تک اعتراض کا ہاتھ نہیں پہنچ سکتا۔
(۳) تیسری علامت یہ ہے کہ وہ پھل جو کھانے کے لائق ہے دائمی اور غیر منقطع ہو۔ یعنی عملی مزاولت کے بعد اس کی
برکات و تاثیرات ہمیشہ اور ہر زمانہ میں مشہود اور محسوس ہوتی ہوں۔ یہ نہیں کہ کسی خاص زمانہ تک ظاہر ہو کر پھر آگے بند ہو جائیں۔
اور پھر فرمایا۔
یعنی پلید کلمہ اس درخت کے ساتھ
مشابہ ہے جو زمین میں سے اکھڑا ہوا ہو یعنی فطرت انسانی اس کو قبول نہیں کرتی اور کسی طور سے وہ قرار نہیں پکڑتا۔ نہ دلائل عقلیہ کی رو سے نہ