یعنی انسانوں میں سے وہ اعلیٰ درجہ کے انسان ہیں جو خدا کی رضا میں کھوئے جاتے ہیں۔ وہ اپنی جان بیچتے ہیں اور خدا
کی مرضی کو مول لیتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن پر خدا کی رحمت ہے ایسا ہی وہ شخص جو روحانی حالت کے مرتبہ تک پہنچ گیا ہے خدا کی راہ میں فدا ہو جاتا ہے۔
خدا تعالیٰ اس آیت میں فرماتا
ہے کہ تمام دکھوں سے وہ شخص نجات پاتا ہے جو میری راہ میں اور میری رضا کی راہ میں جان کو بیچ دیتا ہے اور جانفشانی کے ساتھ اپنی اس حالت کا ثبوت دیتا ہے کہ وہ خدا کا ہے اور اپنے تمام
وجود کو ایک ایسی چیز سمجھتا ہے جو طاعت خالق اور خدمت مخلوق کے لئے بنائی گئی ہے اور پھر حقیقی نیکیاں جو ہر ایک قوت سے متعلق ہیں۔ ایسے ذوق و شوق و حضور دل سے بجا لاتا ہے کہ
گویا وہ اپنی فرماں برداری کے آئینہ میں اپنے محبوب حقیقی کو دیکھ رہا ہے اور ارادہ اس کا خدائے تعالیٰ کے ارادہ سے ہمرنگ ہو جاتا ہے اور تمام لذت اس کی فرمانبرداری میں ٹھہر جاتی ہے اور
تمام اعمال صالحہ نہ مشقت کی راہ سے بلکہ تلذذ اور احظاظ کی کشش سے ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ وہ نقد بہشت ہے جو روحانی انسان کو ملتا ہے۔ اور وہ بہشت جو آئندہ ملے گا۔ وہ درحقیقت اسی کے
اظلال و آثار ہیں جس کو دوسرے عالم میں قدرت خداوندی جسمانی طور پر متمثل کر کے دکھلائے گی۔ اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے۔