درجۂ استقامت حاصل کریں گے کہ جب ہمارے وجود کے تمام پرزے اور ہمارے نفس کی تمام قوتیں اسی کام میں لگ جائیں اور ہماری موت اور ہماری زندگی اسی کے لئے ہو جائے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ یعنی کہہ میری نماز اور میری قربانی اور میرا زندہ رہنا اور میرا مرنا سب خدا کے لئے ہے اور جب انسان کی محبت خدا کے ساتھ اس درجہ تک پہنچ جائے کہ اس کا مرنا اور جینا اپنے لئے نہیں بلکہ خدا ہی کے لئے ہو جائے۔ تب وہ خدا جو ہمیشہ سے پیار کرنے والوں کے ساتھ پیار کرتاؔ آیا ہے اپنی محبت کو اس پر اتارتا ہے اور ان دونوں محبتوں کے ملنے سے انسان کے اندر ایک نور پیدا ہوتا ہے جس کو دنیا نہیں پہچانتی اور نہ سمجھ سکتی ہے اور ہزاروں صدیقوں اور برگزیدوں کا اسی لئے خون ہوا کہ دنیا نے ان کو نہیں پہچانا۔ وہ اسی لئے مکار اور خود غرض کہلائے کہ دنیا ان کے نورانی چہرہ کو دیکھ نہ سکی۔ جیسا کہ فرماتا ہے۔ یعنی وہ جو منکر ہیں تیری طرف دیکھتے تو ہیں مگرُ تو انہیں نظر نہیں آتا۔ غرض جب وہ نور پیدا ہوتا ہے تو اس نور کی پیدائش کے دن سے ایک زمینی شخص آسمانی ہو جاتا ہے۔ وہ جو ہر ایک وجود کا مالک ہے اس کے اندر بولتا ہے اور اپنی الوہیت کی چمکیں دکھلاتا ہے اور اس کے دل کو کہ جو پاک محبت سے بھرا ہوا ہے اپنا تخت گاہ بناتا ہے اور جب ہی سے کہ یہ شخص ایک نورانی تبدیلی پاکر ایک نیا آدمی ہو جاتا ہے۔ وہ اس کے لئے ایک نیا خدا ہو جاتا ہے اور نئی عادتیں اور سنتیں ظہور میں لاتا ہے۔ یہ نہیں کہ وہ نیا خدا ہے یا عادتیں نئی ہیں۔ مگر خدا کی عام عادتوں سے وہ الگ عادتیں ہوتی ہیں جو دنیا کا فلسفہ ان سے آشنا نہیں اور یہ شخص جیسا کہ اللہ جلّ شانہٗ نے فرمایا ہے۔